شیطان کی پیروی
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۱۹
تمام متعلقہ پہلوؤں کی جانچ کے بعد اپنی رائے قائم کریں۔ ہر ایک کا یہ حال ہو رہا ہے کہ ہندو یا حکومتی شعبوں کے بارے میں جو کچھ سنا اس کو مان لیا اور فوراً ہی اس کو پھیلانا شروع کر دیا۔ آج کل کسی بات کو پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ اخبارات ہیں۔ اس اعتبار سے مسلمانوں کے اردو اخبارات کو دیکھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسی ممنوعہ عمل کی ایجنسی بن گئے ہیں۔ مسلمانوں نے آج کل بے شمار اخبارات نکال رکھے ہیں، ان اخبارات کا مشترک کاروبار یہی ہے کہ ہندو۔ مسلم مسائل سے متعلق کوئی بات پا جائیں تو فوراً اس کو بڑھا چڑھا کر چھاپیں اور اس کو زیادہ سے زیادہ سنسنی خیز بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کریں۔
صحابہ کرام سے تو اس قسم کی ایک معمولی لغزش محض وقتی طور پر ہو گئی تھی۔ اور تنبیہہ کے بعد وہ فوراً پلٹ آئے۔ مگر اس ملک کے مسلمان نصف صدی سے اسی قسم کی صحافت میں گم ہیں۔ صحافت کی اس قسم کو موجودہ زمانہ میں زرد صحافت (ایلو جرنلزم) کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ایک طبقہ نے اس زرد صحافت کو نہایت نفع بخش کاروبار سمجھ کر اختیار کر رکھا ہے۔ مگر انھیں جاننا چاہیے کہ یہ عین وہی جرم ہے جس کو قرآن کی مذکورہ بالا آیت میں اتباعِ شیطان کہا گیا ہے۔ مذکورہ آیت میں کہا گیا ہے کہ جب کوئی اہم خبر ملے تو اس کو رسول کی طرف اور اصحاب امر کی طرف لوٹاؤ۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
ایک یہ کہ ایسی ہر خبر کو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین اور آپ کی چھوڑی ہوئی سنت کی روشنی میں جانچنا چاہیے، اور اسی کی روشنی میں اس کے بارہ میں اپنا رویہ متعین کرنا چاہیے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس طرح کے امور میں وہ سنت رسول کی پابندی کریں نہ یہ کہ قومی جذبات جدھر چلنے کا تقاضا کریں اسی طرف تمام لوگ چل پڑیں۔ دوسری چیز اصحاب امر کی طرف رجوع کرنا ہے۔ اس حکم کی تعمیل اسی وقت ہو سکتی ہے جب کہ مسلمانوں کے درمیان "اصحابِ امر" کا وجود ہو۔ اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس کا اہتمام کریں۔ اگر با اختیار اصحاب امر موجود نہ ہوں تو رضا کارانہ بنیاد پر اپنے درمیان اصحاب امر کو وجود میں لائیں اور تمام اہم امور میں اسی اجتماعی ادارہ کے فیصلہ کی پیروی کریں نہ کہ اپنی انفرادی رائے کی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues