جن اور عملیات
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۲۰
جن اور عملیات
عوام میں یہ عقیدہ پھیلا ہوا ہے کہ جنات انسانوں کے اوپر قابو پالیتے ہیں اور انھیں پریشان کرتے ہیں۔ یہ عقیدہ بالکل لغو ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کے لیے کوئی بُنیاد موجود نہیں۔ قرآن سے ثابت ہے کہ شیطان جنوں میں سے ایک جن ہے (فسجدوا الا ابليس كان من الجن ، الكهف ۔ ۵ ) اور شیطان کے بارہ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اس کو انسانوں کے اوپر کوئی عملی اختیار حاصل نہیں :
ان عبادی ليس لك عليهم سلطان الأمن جو میرے بندے ہیں ، ان پر تیرا کوئی زور نہیں مگر اتبعك من الغاوين ( الحجر ۴۲ ) وہ جو تیری راہ چلا بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے ۔ یہی بات قرآن میں دوسرے مقام پر ان الفاظ میں ہے کہ شیطان کو ان لوگوں پر کوئی اختیار نہیں جو ایمان والے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ شیطان کا اختیار صرف ان لوگوں پر ہے جو اس کو اپنا دوست بنائیں (اِنَّهٗ ليس له سلطان على الذين آمنوا وعلى ربهم يتوكلون ۔ انما سلطانه على الذين يتولونه ، النحل )
غیر اہل ایمان پر بھی شیطان کو عملی یا جسمانی اعتبار سے کوئی اختیار نہیں۔ ان پر بھی اس کو صرف بہکانے کا اختیار ہے۔ جو لوگ معرفت حق سے خالی ہوں اور جو توہم پرستی میں مبتلا ہوں ان کو بہکانے میں شیطان کامیاب ہوجاتا ہے۔ یہی اس کی آخری حد ہے۔ چنانچہ قیامت کے دن شیطان اپنے پیروؤں سے کہے گا کہ مجھے تمہارے اوپر کوئی اختیار نہ تھا۔ الا یہ کہ میں نے تمہیں پکارا تو تم نے میری بات سنی ( وما كان لى عليكم من سلطان الا ان دعوتكم فاستجبتم لى، ابراهيم ) سورہ ابراہیم کی مذکورہ آیت ( ۲۲ ) کی تشریح علامہ ابو البرکات عبد اللہ بن احمد بن محمود النسفی نے ان الفاظ میں کی ہے :
وما كان لى عليكم من سلطان ) من تمہارے اوپر مجھے سلطان نہ تھا " کا مطلب یہ ہے سلط و اقتدار ( الا ان دعوتکم ) کہ تمھارے اوپر مجھے کوئی تسلط اور اقتدار حاصل لكنى دعوتكم الى الضلالة بوسوستی وتزيینی نہ تھا۔ " الا یہ کہ میں نے تمہیں پکارا"۔ یعنی میں نے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues