جدوجہد کی تربیت
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۴۵
جدوجہد کی تربیت
رمضان کے مہینہ کو حدیث میں صبر کا مہینہ (شہر الصبر) کہا گیا ہے ۔ صبر و استقامت بلا شبہ زندگی کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہی تمام فتوحات اور کامیابیوں کا راز ہے۔ حقیقی روزہ صبر کی صفت پیدا کرتا ہے اور صبر ہی وہ چیز ہے جو تمام اعلیٰ کامیابیوں کا دروازہ ہے۔ روزہ کے لیے عربی لفظ صوم ہے ۔ صوم کے اصل معنی ہیں رکنا ۔ صائم کے معنی ہیں رکنے والا ۔ قدیم زمانہ میں مشکل اوقات میں گھوڑا انسان کا سب سے بڑا ساتھی تھا۔ جنگ اور سخت قسم کے سفر میں وہ انسان کے کام آتا تھا۔ اس مقصد کے لیے تربیت دینے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ گھوڑے کو محدود مدت کے لیے بھوکا پیاسا رکھا جائے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ سختی کو برداشت کرسکے۔ اس طرح کے تربیت یافتہ گھوڑے کو خیل صائم (روزہ دار گھوڑا) کہتے تھے۔ نابغہ نے میدان جنگ کی تصویر کشی میں گھوڑوں کے بارہ میں کہا ہے کہ کچھ گھوڑے روزہ والے تھے اور کچھ گھوڑے بغیر روزہ والے :
خيل صِيام وخيل غير صائمة
اس طرح انسان صائم سے مراد وہ انسان ہے جو کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات سے وقتی طور پر رک جائے ۔ یہ رکنا اور پر ہیز کرنا آدمی کے اندر برداشت کی صلاحیت پیدا کرتا ہے، وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ جب سختیاں پیش آئیں تو وہ ان کے مقابلہ میں پوری طرح جم سکے۔ رمضان کا مہینہ آدمی کے لیے اپنے نفس اور اپنی خواہشات سے لڑنے کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جب کہ مومن شیطانی طاقتوں کو زیر کر کے ان کے اوپر قابو پاتا ہے اور دوبارہ خدا کی بندگی کا عزم لے کر نئے سال میں داخل ہوتا ہے ۔
تاریخ حیرت انگیز طور پر روزہ کی اس خصوصیت کی تصدیق کرتی ہے۔ چنانچہ روحانی مقابلہ کا یہ مہینہ اسلام کی تاریخ میں فوجی مقابلہ کا مہینہ بھی رہا ہے۔ اسلام اور غیر اسلام کے کئی بڑے بڑے معرکے اسی مہینہ میں پیش آئے۔ مثال کے طور پر ان میں سے چند معرکوں کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے :