Al-Risala · May 1988 · page 4

خيل صِيام وخيل غير صائمة

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۴

۱- غزوہ بدر (رمضان ۲ ھ)

جب کہ رسول اوپر اصحاب رسول کو قریش کے اوپر فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی۔ ۲- فتح مکہ (رمضان ۸ ھ) جس نے پورے عرب پر اسلام کو غالب کر دیا۔ ۳- غزوہ تبوک (رمضان ۹ ھ) جس نے رومیوں کے اور اہل اسلام کی دھاک قائم کر دی ۔ غزوہ تبوک رجب میں شروع ہو کر رمضان میں ختم ہوا ۔

۴- فلسطین (رمضان ۱۵ ھ) عمرو بن العاص نے فلسطین کو فتح کر کے بیت المقدس کو اسلام کے حدود سلطنت میں شامل کیا ۔

۵- معرکہ اسپین (رمضان ۹۱ ھ) جب کہ طارق بن زیاد نے اسپین میں کامیاب پیش قدمی کی ۔ ۶- سندھ (رمضان ۹۶ ھ) محمد بن قاسم سندھ میں داخل ہوئے اور وہاں اسلام کو پھیلایا ۔ ۷- دولت اندلس (رمضان ۱۳۸ ھ) عبد الرحمٰن الداخل اندلس میں داخل ہوئے اور وہاں باقاعدہ دولت امویہ قائم کی ۔

۸- صقلیہ (رمضان ۲۱۲ ھ) زیاد بن الاغلب نے جزیرہ صقلیہ کو فتح کیا ۔ ۹- حروب صلیبیہ (رمضان ۵۸۴ ھ) حطین کی مشہور جنگ میں صلاح الدین ایوبی نے صلیبی طاقتوں پر فتح حاصل کی ۔

۱۰- معرکہ عین جالوت (رمضان ۶۵۸ ھ) جس نے تاتاریوں کو شکست دے کر مسلم دنیا میں ان کی پیش قدمی کو روک دیا۔

۱۱- معرکہ سوئز (رمضان ۱۳۹۳ ھ) جب کہ مصری فوجوں نے اسرائیلی فوجوں کو شکست دے کر نہر سوئز پر دوبارہ قبضہ کر لیا ۔

اس قسم کے تاریخی واقعات بتاتے ہیں کہ روزہ اور جد و جہد حیات میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ روزہ کی مشقت آدمی کو کمزور نہیں کرتی ۔ بلکہ وہ اُس کو اس قابل بناتی ہے کہ زندگی کے معرکہ میں وہ زیادہ قوت اور طاقت کے ساتھ حصہ لے سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page