Al-Risala · May 1988 · page 5

واحد راستہ

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۵

واحد راستہ

سفر نامہ (الرسالہ مارچ ۱۹۸۸) میں ایک جاپانی انجینئر شوگو کٹا كورا (Shogo Katakura) کا ذکر آیا ہے جن سے میری ملاقات مالدیپ میں ہوئی تھی، انھوں نے میرے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جاپان کے جغرافیائی حالات نے جاپانیوں کے اندر یہ ذہن پیدا کیا ہے کہ وہ ہمیشہ نئے خیالات (New ideas) کی تلاش میں رہیں۔ وہاں بار بار موسم بدلتے ہیں، زلزلے اور طوفان سے بار بار نئے حالات پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے جاپانیوں کو بار بار یہ سوچنا پڑتا ہے کہ بدلے ہوئے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ کیا کریں۔

اس صورت حال نے نئے خیالات کی تلاش کو جاپانیوں کا مستقل مزاج بنا دیا ہے۔ یہی مزاج ہے جو دوسری جنگ عظیم کی بربادی کے بعد جاپانیوں کے کام آیا۔ انھوں نے جنگ کے بعد بدلے ہوئے حالات کی روشنی میں اپنے معاملہ پر از سر نو غور کیا۔ اور نئے حالات کے مطابق نیا منصوبہ بنا کر دوبارہ زیادہ بڑی کامیابی حاصل کی۔ جاپانیوں کی اسی خصوصیت کو ایک امریکی مصنف نے ان لفظوں میں ادا کیا ہے کہ وہ تبدیلی کے آقا بن گئے ، بجائے اس کے کہ وہ اس کا شکار ہو جائیں : They became the masters of change rather than the victims. زندگی کا سفر کبھی ہموار راستہ پر طے نہیں ہوتا۔ زندگی حادثات اور مشکلات سے بھری ہوئی ہے۔ یہ حادثے اور مشکلیں افراد کو بھی پیش آتے ہیں اور قوموں کو بھی۔ یہ خود خالق کا قائم کیا ہوا نظام ہے، اس سے بچنا کسی بھی طرح ممکن نہیں۔

ایسی حالت میں انسان کے لیے کامیابی کا راستہ صرف ایک ہے ۔ وہ مشکلات کے با وجود اپنے سفر کو جاری رکھے ۔ وہ راستہ کے کانٹوں اور پتھروں کے باوجود منزل تک پہنچنے کا حوصلہ کر سکے۔

حالات کی تبدیلی کے بعد حالات کے خلاف شکایت نہ کیجیے بلکہ نئے حالات کے مطابق اس کا نیا حل سوچیے اور آپ ہمیشہ کامیاب رہیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page