Al-Risala · May 1988 · page 11

صفحات ۲۱۸ ہدیہ ۲۵ روپيه

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۱۱

اس ملک میں وہ نئے انقلاب کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔ اس طرح مسلمان نہ صرف اپنا مسئلہ حل کریں گے بلکہ وہ اس ملک کو ایک نیا معیار دیں گے جس کو ایک ایک لفظ میں (Muslim work ethics) (مسلم اخلاقیات) کہا جا سکتا ہے ۔ اور جب ایسا ہوگا تو مسلمان اس ملک میں سرمایه (Asset) بن جائیں گے جو کہ اس وقت ملک کے لیے صرف ایک بوجھ (Liability) بنے ہوئے ہیں ۔ ہندوستان کے مسلمان ابھی تک تہذیبی تشخص (Cultural identity) حاصل کرنے کے لیے مطالباتی تحریکیں چلانے میں مشغول رہے ہیں ۔ میرے نزدیک اس قسم کی تمام کوششیں سراسر بے فائدہ ہیں ۔ کیوں کہ تہذیبی تشخص اپنی داخلی قوت سے قائم ہوتا ہے ، وہ مطالبہ کرکے حاصل نہیں کیا جاتا ۔

زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمان اخلاقی تشخص کو اپنا نشانہ بنائیں ۔ وہ اسلامی اخلاق اختیار کرنے کو اپنا نشان امتیاز قرار دیں ۔ مسلمان اگر اخلاقی حیثیت سے اپنا تشخص قائم کرسکیں تو وہ تہذیبی حیثیت سے بھی اپنے آپ اپنا تشخص پالیں گے جس کے لیے وہ بے فائدہ طور پر مطالباتی مہم چلانے میں مشغول ہیں ۔ میوات کا سفر میوات کے تاریخی علاقہ پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ مگر میوات کا سفر اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے۔ وہ سادہ معنوں میں صرف ایک علاقہ کا تذکرہ نہیں ، وہ ۲۰ سالہ مشاہدہ کا ایک تحریری ریکارڈ ہے۔ براہ راست طور پر اگرچہ وہ علاقہ میوات کی ایک تصویر ہے۔ مگر بالواسطہ طور پر وہ پوری ملت اسلامیہ سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ سفر نامہ کی زبان میں ملت کے حال کا جائزہ اور اس کے مستقبل کی تعمیر کا نقشہ ہے۔

صفحات ۲۱۸ ہدیہ ۲۵ روپيه

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page