Al-Risala · May 1988 · page 12

فکری طاقت

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۱۲

فکری طاقت

قرآن میں آئندہ آنے والے زمانہ کے بارہ میں جو خبریں دی گئی ہیں ان میں سے ایک پیشگی خبر وہ ہے جو سورہ نمبر ۴۱ میں ان الفاظ میں آئی ہے :

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ۔ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ آفاق میں اور انفس میں، یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ یہ حق ہے۔ کیا یہ تیرے رب کے لیے کافی انَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٍ۔

نہیں کہ وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

اس آیت کے مطابق، نزول قرآن کے بعد وہ زمانہ آنے والا ہے جب کہ فطرت کی نشانیوں کا ظہور ہی تبیین حق کے لیے کافی ہو جائے ۔ جب کہ کائنات اور انسان کے بارہ میں علمی انکشافات ہی ان حقائق کو ثابت شدہ بنا دیں جن کی خبر قرآن اور صاحبِ قرآن (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذریعہ اہلِ عالم کو دی گئی ہے۔

یہی بات حدیث میں ایک اور انداز سے آئی ہے۔ یہاں ہم اس سلسلہ میں صحیح مسلم کی ایک روایت نقل کرتے ہیں :

عن أبي هريرة ، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال : " هل سمعتم بمدينة ، جانب منها في البر، وجانب منها في البحر ، قالوا : نعم يا رسول الله ! قال : " لا تقوم الساعة حتى يغزوها سبعون الفا من بني اسحاق ، فاذا جَاؤُوهَا نزلوا ، فلم يقاتلوا بسلاح ولم يرموا بسهم ، قالوا : لا اله الا الله والله اكبر ، فَيَسْقُطُ احد جانبيها . قال ثور بن زيد الراوى : لا اعلمه الا قال : " الذى في البحر، ثم يقولون الثانية : لا اله الا الله، والله اكبر ، فيقسط جانبها الآخر، ثم يقولون الثالثة ، لا اله الا الله، والله اكبر ، فيفرج لهم ييد خلونها فيغتنمن ، فبيناهم يقتسمون الغنائم اذ جاء هم الصريخ ، فقال : ان الدجال قد خرج ، فيتركون كل شي ويرجعون ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page