Al-Risala · May 1988 · page 14

اختلاف امت

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۱۴

رد ابن عباس قائلا، یا امیر المومنین انما انزل عَلَيْنَا القرآن فقر آناه وعلمنا فیما انزل، وانه سیکون بعد نا أقوام يقرأون القرآن ولا يدرون فيما نزل، فيكون لكل قوم رأى. فاذا كان لكل قوم فيه رأي لاختلفوا فَإِذَا اختلفوا اقتتلوا ـ تقول الرواية ان سيدنا عمر بن جزا بن عباس وخرج سيدنا علي : فانصرف ابن عباس و نظر عمر فيما قال فجر فه .... فأرسل اليه وقال : اعد علی ما قلته فأعاد عليه فعرف عمر قوله وَأَعْجَبَه (د۔ .. يوسف القرضاوى ـ العمدة الاسلامية ص ۸۹ نقلاً عن مصادر اخرى)

مسلمانوں کے باہمی اختلاف کے معاملے نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فکر میں مبتلا کر دیا۔ وہ اپنے آپ سے سوال کرتے رہے کہ یہ امت کیوں کر مختلف اور متفرق ہو جائے گی جب کہ اس کا پیغمبر ایک ہے جیسا کہ روایات بتاتی ہیں ، انھوں نے اس سوال کو عبداللہ بن عباس کے سامنے رکھا اور ان سے کہا کہ یہ امت کیسے مختلف ہو جائے گی جب کہ آس کا پیغمبر ایک ہے اور اس کا قبلہ ایک ہے اور اس کی کتاب ایک ہے۔ عبداللہ بن عباس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اے امیر المومنین ہمارے اوپر قرآن اترا، پھر ہم نے اس کو پڑھا اور یہ جانا کہ وہ کس بارہ میں اترا ہے۔ اور ہمارے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن کو پڑھیں گے مگر وہ نہیں جانیں گے وہ کس بارہ میں اترا ہے۔ چنانچہ ہر ایک کی الگ الگ رائے ہو جائے گی ، اور جب ہر ایک کی الگ رائے ہوگی تو وہ اختلاف کریں گے اور جب اختلاف کریں گے تو آپس میں لڑیں گے۔ روایت کہتی ہے کہ حضرت عمر نے عبداللہ بن عباس کو جھڑک دیا اور حضرت علی نے بھی ان کو ڈانٹا۔ وہ واپس چلے گیے۔ پھر حضرت عمر نے ان کے قول پر غور کیا تو وہ سمجھ گیے۔ حضرت عمر نے دوبارہ انھیں بلایا اور کہا کہ اپنے قول کو دہراد۔ انھوں نے دہرایا۔ حضرت عمر ان کے قول کو سمجھ گیے اور اس کو پسند کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے جو بات کہی اور حضرت عمر نے جس کی تصدیق فرمائی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کو پڑھنے کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے معرفت کے ساتھ پڑھنا، اور دوسرا ہے معرفت کے بغیر پڑھنا۔ جو شخص معرفت کی سطح پر قرآن کو پڑھے ، وہی قرآن کو حقیقی طور پر سمجھے گا، اور جو شخص معرفت کے بغیر قرآن کو پڑھے وہ پڑھنے کے باوجود قرآن کو سمجھنے سے قاصر رہے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page