اختلاف امت
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۱۶
اختلاف امت
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہود ۷۱ فرقوں میں بٹ گئے ۔ اور نصاری ۷۲، فرقوں میں بٹ گئے ۔ اور میری امت ۷۳، فرقوں میں بٹ جائے گی ( افترقت اليهود علی احدی وسبعين فرقة وافترقت النصارى علی اثنتين وسبعين فرقة ۔ و ستفرق امتی علی ثلاث وسبعين فرقة)
علماء سنت نے اس حدیث کی صحت پر کلام کیا ہے ۔ تاہم ، جیسا کہ المقبلی نے اپنی کتاب العلم الشامخ میں لکھا ہے ، اس بارے میں کثیر روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتی ہیں ، اس لیے اس کے اصل مفہوم میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا (حدیث افتراق الامة الی ثلاث وسبعين فرقة رواياته كثيرة يشد بعضها بعضاً بحيث لا تبقى ريبة في حاصل معناه )
اکثر لوگوں نے ۷۳، کی تعداد کو حسابی گنتی کے معنی میں لیا ہے ، چنانچہ انہوں نے مسلم فرقوں کی فہرست بنانے کی کوشش کی ہے ۔ مثلاً ابن حزم شہرستانی نے اپنی کتاب الملل والنحل میں ان کی تعداد ۷۲، بتائی ہے ۔ الاشعری نے مقالات الاسلامیین میں ان کی تعداد ایک سو سے زیادہ تک شمار کی ہے ۔ الخوارزمی کے نزدیک ان فرقوں کی تعداد ۷۲، ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ڈاکٹر محمد عمارة کی کتاب الخلافة ونشأة الاحزاب الاسلامية ) مگر حقیقت یہ ہے کہ حدیث میں ۷۳، کا لفظ تعداد کی کثرت بتانے کے لیے آیا ہے نہ کہ تعداد کی حد بتانے کے لیے ۔ اس لیے ہمیں تعداد کا شمار کرنے کے بجائے اختلاف کی اصل حقیقت پر غور کرنا چاہیے ۔ صحابہ کی رائے ان مسألة الخلاف بين المسلمين ارقت اميرالمومنين عمر بن الخطاب في لحظة