ایک نظریہ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۱۹
ایک نظریہ
جدید ذہن پر جن چند لوگوں نے بہت زیادہ اثرات ڈالے ہیں ان میں سے ایک ممتاز نام سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) کا ہے۔ وہ تحلیل نفسی (Psychoanalysis) کا ماہر تھا۔ اپنے نفسیاتی مریضوں کا مطالعہ کرنے کے بعد اس نے انسان کے ذہنی سانچہ (Mental structure) کا ایک نقشہ بنایا۔ اس نے اس بات کی توجیہہ کی کہ آدمی کا لاشعور (Unconscious mind) کس طرح عمل کرتا ہے۔
فرائڈ نے کہا کہ انسان کا لاشعور ہی دراصل یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ کیا کرے ۔ اس نظریہ کے مطابق انسان کانیت اور ارادہ ہر قسم کے جرم کی ذمہ داری سے بری ہو گیا۔ جب آدمی کا عمل اس کے شعور اور ارادہ سے صادر نہیں ہوتا بلکہ اس کے لاشعور یا اس کے غیر شعوری ذہن کے تحت صادر ہوتا ہے تو انسان باعتبار حقیقت ارادی مجرم نہ رہا۔ ایک مبصر نے لکھا ہے : Perhaps no science has been a more powerful source of forgiveness than the psychoanalysis of Freud. The sinner becomes a patient. And if he seems to do wrong, it is not really he who does it but an unconscious whose machinations are unknown to him. (Times, London)
غالباً کوئی اور علم نہیں جس نے فرائڈ کی تحلیل نفسی سے زیادہ انسان کی بے گناہی ثابت کرنے کا کام کیا ہو۔ اس نظریہ کے مطابق گناہ گار ایک مریض کی حیثیت حاصل کر لیتا ہے ۔ اور اگر وہ غلطی کرتا ہوا نظر آئے تو حقیقتاً وہ خود نہیں ہے جو ایسا کر رہا ہے بلکہ ایک لاشعور ہے جس کا نظام اس کے اپنے لیے بھی غیر معلوم ہے۔
فرائڈ کے اس نظریہ کے مطابق انسانوں میں جو تقسیم ہے وہ صحیح اور غلط (Right and wrong) کی نہیں ہے بلکہ صحیح اور ذہنی اعتبار سے غیر صحت مند (Right and not mentally healthy) کی ہے۔ جس چیز کو پہلے نظم کہا جاتا تھا وہ اب غیر صحت مند دباؤ ہے۔ What was once discipline is now unhealthy repression مگر انسانی فطرت کے بارہ میں جدید ترین تحقیقات نے اس نظریہ کو غلط ثابت کر دیا ہے۔