بدتر از گناہ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۰
بدتر از گناہ
ٹائمس آف انڈیا (۱۵ ستمبر، ۱۹۸) میں راقم الحروف کا ایک مضمون چھپا تھا۔ ایک بزرگ نے اس کو غلط شکل میں پیش کر کے مجھ کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ ان صاحب سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے انھیں تنبیہ کی۔ میں نے کہا کہ اگر بات کو غلط شکل میں پیش کر کے مطعون کرنا درست ہو تو اس طرح آپ کسی بھی شخص کو مطعون کر سکتے ہیں، خواہ وہ کتنا ہی زیادہ صحیح کیوں نہ ہو۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مولانا احمد رضا خاں بریلوی نے ۱۳۳۲ ھ میں ایک فتویٰ مرتب کیا۔ اُس میں چار دیو بندی علماءءءء (مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا خلیل احمد سہارن پوری، مولانا اشرف علی تھانوی) کو کافر قرار دیا گیا تھا۔ تکفیر کا یہ فتویٰ بظاہر اتنا قطعی تھا کہ مولانا احمد رضا خاں بریلوی جب حجاز گئے اور مکہ اور مدینہ کے عرب علما کو اسے دکھایا تو حرمین کے علما نے بھی اس کو صحیح سمجھ کر اس کی تصدیق کر دی۔ اور مولانا احمد رضا خاں بریلوی نے ہندوستان واپس آکر اس کو حسام الحرمین کے نام سے شائع کر دیا۔ مگر تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ فتویٰ صحیح نہ تھا۔ کیونکہ اس میں مذکورہ علما دیوبند کی عبارتوں کو غلط شکل میں پیش کیا گیا تھا۔
میری یہ بات سن کر مذکورہ بزرگ نے کہا کہ میں نے وہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی تھی۔ فلاں صاحب نے آپ کے خلاف ایک مراسلہ چھپوایا تھا، اسی کو میں نے دہرادیا۔ میں نے کہا کہ آپ کی اس توجیہہ سے آپ کا جرم کم نہیں ہوتا۔ کیوں کہ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ جو بات سنے اس کو بیان کرنے لگے (کفی بِالْمَرْءِ كذبًا ان يحدث بكل ماسمع)، اگر آپ خود سے ایسی بات کہیں تو آپ مسخ حقیقت (Distortion of facts) کے مجرم ہیں اور اگر آپ اخباری خط کو پڑھ کر بلا تحقیق اس کو دہرائیں تو حدیث کے مطابق کذب بیانی کے مجرم ۔ غلطی کو چھپانے کے لیے جھوٹی توجیہہ کا سہارا لینا عذر گناہ بدتر از گناہ کا مصداق ہے۔