خاتمہ میں نیا آغاز
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۴۱
بہشتی اس طرح مجموعی طور پر تقریباً ایک مسلمان افریقہ کے ملک حبش پہنچ گئے۔ بظاہر یہ واقعہ پس پائی کا واقعہ تھا۔ مگر خدا کے فضل سے اس کے اندر اقدام کا پہلو نکل آیا۔ یہ لوگ جو مکہ سے حبش گیے تھے یہ کوئی اسٹیجو نہ تھے بلکہ اسلام کے زندہ مبلغ تھے۔ ان کا حبش جانا قدرتی طور پر اسلام کے مبلغین کا ایک براعظم سے دوسرے براعظم جانا بن گیا ۔ ان کے حبش پہنچتے ہی سمندر پار کے اس ملک میں اسلام کا چرچا ہونے لگا۔ ان کی دعوتی اور اخلاقی تاثیر سے حبش کے لوگوں میں اسلام پھیلنے لگا۔ حتیٰ کہ جب اس کا چرچا بڑھا تو خود شاہ حبش نجاشی نے ان لوگوں کو اپنے دربار میں بلایا۔ جو حبش کے قدیم شہر اکسوم پر واقع تھا۔
اس وقت حضرت جعفر نے مسلمانوں حبش کی نمائندگی کی۔ انھوں نے اسلام کے تعارف پر ایک تقریر کی ۔ جو لوگ کسی مقصد کے لیے ستائے جائیں اور پھر بھی اس سے نہ پھریں خواہ اس کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دینا پڑے ، ایسے لوگوں کی آواز میں قدرتی طور پر سوز پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کے الفاظ دل کی گہرائیوں سے نکلتے ہیں۔ چنانچہ حضرت جعفر نے جب بھرے دربار میں تقریر کی تو ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ حتیٰ کہ خود شاہ نجاشی رونے لگا۔ اس کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ حضرت جعفر بظاہر ستائے گیے تھے۔ مگر اسی ستانے کے واقعے نے آپ کے کلام میں وہ زور اور تاثر پیدا کر دی جس نے بادشاہ کو اور اس کے تمام در باریوں کو تڑپا دیا۔
ہجرت حبشہ سے متعلق اس قسم کے بہت سے واقعات سیرت کی کتابوں میں آئے ہیں۔ اس طرح ایک بظاہر پس پائی کا واقعہ اقدام کا واقعہ بن گیا ۔ اسلام کی دعوت ایشیا کے علاقے سے نکل کر افریقہ کے علاقہ میں پہنچ گئی ۔ اس کے بعد وہ افریقہ میں بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ افریقہ کا نصف سے زیادہ حصہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ ایک مقامی دعوت عالمی دعوت میں تبدیل ہو گئی ۔ ارییُسریا کا علاقہ جو مسلم اکثریت کا علاقہ ہے ، وہ اسی ہجرت حبشہ کے بعد وجود میں آیا۔
خاتمہ میں نیا آغاز
عصر میں ٹیر کے اسی امکان کی ایک مثال حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ آپ کا قصہ ابتداء اسود القصص معلوم ہوتا ہے ۔ مگر قرآن کے الفاظ میں بالآخر وہ احسن القصص بن گیا۔ حضرت یوسف کے دشمنوں نے جہاں آپ کی تاریخ ختم کرنی چاہی تھی ، وہیں آپ کے لیے ایک شاندار تر تاریخ