ہجرت سے تبلیغ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۰
مکہ کے مشرکین ہر روز آپ سے پوچھتے ۔ اور آپ سوال کا جواب نہ دے پاتے۔ اس طرح مکہ کے مخالفین کو موقع مل گیا کہ وہ آپ کا مذاق اُڑائیں اور لوگوں سے کہیں کہ یہ سچے پیغمبر نہیں ہیں۔ اگر وہ سچے پیغمبر ہوتے تو یقیناً خدا انھیں بتا دیتا اور وہ سوال کا جواب دیدیتے۔
یہ ظاہر یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو اسلام کے خلاف تھا۔ یہ اسلام کی صداقت کو مشتبہ کر رہا تھا۔ مگر یہاں بھی "عصر" کے اندر ایک "یسر" چھپا ہوا تھا۔ وحی کا رکنا اور مخالفین کا اس کو استعمال کرکے پروپیگنڈا کرنا اپنے اندر ایک روشن پہلو رکھتا تھا۔ اس طرح یہ ہوا کہ سارے مکہ میں اسلام ایک سوالیہ نشان بن گیا۔ ہر گھر میں اس کا چرچا ہو پہنچ گیا۔ پوری آبادی کے اندر سننے کی فضا پیدا ہوگئی۔ پندرہ دن وحی رکنے کے بعد حضرت جبرئیل سورہ الکہف لے کر آئے جس میں مذکورہ سوالات کا تفصیلی جواب تھا۔ عام حالت میں یہ سورہ اترتی تو اس کا اترنا لوگوں کو زیادہ قابلِ توجہ واقعہ نہ آتا مگر اب وہ اتری تو سارا مکہ اس کو سننے کے لیے کان لگائے ہوئے تھا۔ چنانچہ اس کے اترتے ہی وہ سارے مکہ میں پھیل گئی۔ ہر آدمی اس کو جاننے کے لیے دوڑ پڑا کہ دیکھیں " محمد " نے ان سوالات کا کیا جواب دیا ہے ــــ جو چیز بظاہر اسلام کے غیر موافق تھی وہ اسلام کے موافق بن گئی۔
ہجرت سے تبلیغ
مشرکین مکہ کی مخالفت کے باوجود اسلام برابر پھیل رہا تھا۔ مشرکین کی ہر تدبیر اسلام کی مزید اشاعت کا سبب بن رہی تھی۔ اس کو دیکھ کر مکہ کے مشرکین اور زیادہ سخت ہو گئے۔ انھوں نے مسلمانوں کے اوپر اپنی سختیاں تیز تر کر دیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ مکہ کو چھوڑ کر باہر چلے جائیں ( تفرقوا فی الارض فان اللہ سیجمعکم ) لوگوں نے پوچھا کہ کہاں جائیں تو آپ نے فرمایا کہ حبش چلے جاؤ۔
حبش افریقہ کی طرف عرب کا ایک پڑوسی ملک ہے۔ دونوں کے درمیان بحر احمر حائل ہے۔ اس سمندر کی چوڑائی یمن کے پاس بہت کم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ قدیم زمانہ میں یہیں سے لوگ کشتیوں کے ذریعہ عرب سے حبش اور حبش سے عرب کا سفر کیا کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مشورہ کے بعد رجہب سنہ میں ایک درجن آدمی مکہ کو چھوڑ کر حبش چلے گئے۔ جلد ہی بعد دوسرا زیادہ بڑا قافلہ مکہ کو چھوڑ کر حبش گیا۔ ابن ہشام کے مطابق ان کی تعداد