Al-Risala · May 1988 · page 45

۴۳ المر سالہ مئی ۱۹۸۸

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۴۵

موجووہ زمانہ میں روزہ کی حیثیت ایک قسم کی سالانہ رسم کی ہو گئی ہے۔ لوگوں کی اصل زندگی بدستور اپنے ڈھرے پر چلتی رہتی ہے۔ روزہ کا زمانہ آتا ہے تو وہ بس ہجری کیلنڈر کے نویں ماہ میں داخل ہوتا ہے۔ لوگوں کی زندگیوں میں داخل نہیں ہوتا۔ روزہ رکھ کر نہ لوگوں کے دل نرم پڑتے ۔ نہ ان کے اندر عجز پیدا ہوتا ، نہ جائز اور ناجائز کے معاملہ میں ان کی قوتِ مشابہ میں کوئی اضافہ ہوتا۔ ان کے نزدیک روزہ کے معنی صرف یہ ہیں کہ ایک خاص وقت سے خاص وقت تک کھانا پینا بند رکھا جائے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اس طرح بھوکے رہنے سے خدا خوش ہو جائے گا ______________ ایسی حالت میں ایک بے روزہ دار کیوں نہ سوچے کہ جب خدا کو خوش کرنے کے لئے کچھ رسم ہی ادا کرنی ہے تو جیسا روزہ کی رسم دیا "تلاوت کی رسم ۔ ایک رسم نہ کی، دوسری رسم کر لی ۔ خدا جیسے اس رسم سے خوش ہوتا ہے ، اسی طرح وہ دوسری رسم سے بھی خوش ہو جائے گا۔

اصل یہ ہے کہ روزہ محض ایک خارجی رسم نہیں۔ بلکہ وہ ایک باطنی عمل ہے۔ وہ مومن کی نفسیاتی حالت کا ایک جسمانی اظہار ہے۔ مومن کا مطلب ہے ایک ایسا شخص جو دنیا کی زندگی میں برائیوں سے بچ کر رہے ، جو کرنے اور نہ کرنے" کے بارے میں خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کی پابندی کرے۔ روزہ اسی قسم کی پابند زندگی کی مشق ہے۔ روزہ میں کھانا پینا چھڑانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو روز مرہ زندگی میں یہ کر و اور دہ نہ کرو" کے ایک لازمی کورس سے گزار کر اس کو سبق دیا جائے کہ اسی طرح تم کو پوری زندگی گزارنی ہے۔ اسی طرح ساری عمر کے لئے تم کو روزہ دار" بن جانا ہے جب کہ تم خود اپنے ارادہ سے ایک طرح کی زندگی کو چھوڑ دو اور دوسری طرح کی زندگی کو بالقصد اختیار کر لو۔ روزہ کے مہینے کی پابند زندگی دراصل پورے سال اور ساری عمر کے لئے پابند زندگی کی ایک علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے سارے معاملات میں "روزہ داری" کے اسی طریقے پر عمل کرے جو اس نے رمضان کے مہینے میں کھانے پینے کے معاملہ میں کیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو حدیث کے الفاظ میں "اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ کوئی شخص محض اپنا کھانا پینا چھوڑ دے" اگر روزہ دار لوگ اپنے عمل سے حقیقی روزہ داری کا نمونہ پیش کریں تو غیر روزہ داروں کو ہمت ہی نہیں پڑے گی کہ وہ سوچیں کہ اپنے روزہ کی تلافی کے لئے کسی حافظ صاحب کی خدمات بالمعاوضہ حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس کے بعد انھیں یہ عمل بالکل مضحکہ خیز دکھائی دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ روزہ کی یہ بے قدری روزہ داروں نے پیدا کی ہے نہ کہ بے روزہ داروں نے۔ بے روزہ دار تو اسی کو روزہ سمجھیں گے جس کا نمونہ روزہ دار دکھارہے ہوں۔

خاتونِ اسلام (نیا ایڈیشن)

خاتون اسلام کا پہلا ایڈیشن غیر معمولی طور پر مقبول ہوا اور بہت جلد ختم ہو گیا۔ اب اس کا دوسرا ایڈیشن چھپ کر تیار ہے۔ دوسرے ایڈیشن میں تقریباً۔ اضافات کا اضافہ کیا گیا ہے۔ مزید معلومات کے لیے دفتر سے رابطہ فرمائیں ۔ منیجر مکتبہ الرسالہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page