Al-Risala · June 1988 · page 13

دنیا سے آخرت لینا

الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۱۳

دنیا سے آخرت لینا

قرآن میں قارون کا قصہ بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر فرعون سے مل کر اس نے کافی دولت کمائی۔ اس کے خزانوں کا یہ حال تھا کہ ” ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی۔ اس دولت سے قارون کے اندر فخر اور گھمنڈ پیدا ہو گیا ۔ اس وقت کچھ صالح بندوں نے اس کو نصیحت کی کہ دولت پر فخر نہ کر۔ اللہ نے تجھ کو جو کچھ دیا ہے اس سے آخرت کا طالب بن اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھول (وابتغ فيما آتاك الله الدار الآخرة ولا تنس نصيبك من الدنيا ، القصص ، 7 ) اس کی تفسیر کے سلسلہ میں مفسرین کے کچھ اقوال یہ ہیں :

وقيل ‌معناه واطلب بدنياك آخرتك اور کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی دنیا فان ذلك حظ المومن منها کے ذریعہ آخرت چاہو۔ کیونکہ یہی اس سے مومن کا (تفسیر النسفی) حصہ ہے۔

یعنی ما تحصل بھا آخرتك فان حقيقة یعنی دنیا سے وہ چیز لینا نہ بھولو جس سے تم اپنی نصيب الانسان من الدنيا ان يعمل آخرت حاصل کر سکو۔ دنیا سے انسان کا اصل للآخرة فان الدنيا مزرعة الآخرة۔ كذا حصہ یہ ہے کہ وہ آخرت کے لیے عمل کرے۔ کیوں کہ قال مجاهد وابن زيد ۔ وقال السدی دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ مجاہد اور ابن زید کا نصيبك من الدنيا الصدقة وصلة الرحم قول یہی ہے۔ اور سدی نے کہا کہ دنیا سے وقال على رضي الله عنه لاتنس صحتك و تمہارا حصہ صدقہ اور صلہ رحمی ہے۔ اور علی قوتك وشبابك وغناك ان تطلب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم اپنی صحت اور اپنی قوت الآخرة ۔ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اور اپنی جوانی اور اپنی دولت کے معاملہ میں یہ اغتنم خمسا قبل خمس ، حياتك قبل نہ بھولو کہ تم اس کے ذریعہ سے آخرت چاہو۔ موتك وصحتك قبل سقمك وفراغك رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیز

‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues

Printed page