دنیا سے آخرت لینا
الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۱۴
قبل شغلك وشبابك قبل هرمك و سے پہلے پانچ چیز کو غنیمت جانو۔ اپنی موت سے پہلے غناك قبل فقرك۔ ومال الحسن اپنی زندگی کو۔ اپنی بیماری سے پہلے اپنی صحت امران يتقدم الفضل ريمك ما يغنيه کو۔ اپنی مشغولیت سے پہلے فراغت کو۔ یعنی ما يكفيه ۔ اپنے بڑھاپے سے پہلے اپنی جوانی کو۔ اور اپنی (التفسيري المظہری) محتاجی سے پہلے اپنی دولت مندی کو۔ اور حسن بصری نے کہا کہ یہاں یہ حکم دیا گیا ہے کہ حقیقی ضرورت کے بقدر مال روک کر ضرورت سے زیادہ کو آگے بھیجو۔
موجودہ دنیا جو انسان کو دی گئی ہے، وہ آخرت کی کمائی کرنے کے لیے دی گئی ہے۔ جس شخص نے دنیا میں آخرت کے فائدہ والا کام کیا، اس نے دنیا سے آخرت کا حصہ لیا۔ اس کے برعکس جو شخص دنیا میں صرف دنیا کے فائدہ والا کام کرتا رہا۔ اس نے دنیا سے آخرت کا حصہ نہیں لیا۔ وہ موت کے بعد دوسری دنیا میں اس طرح پہنچے گا کہ وہاں اس کے لیے کچھ نہ ہوگا۔ یہ انجام صرف عام دنیا داروں کا نہیں ہوگا۔ یہی انجام ان لوگوں کا بھی ہوگا جو بظاہر دین والے کام کرتے ہیں۔ مگر اس سے ان کا مقصد دنیوی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ دین کا کام کرکے اگر کوئی شخص مال، قیادت، شہرت، عزت، بڑائی چاہے تو اس نے بھی گویا دنیا سے اپنی آخرت کا حصہ نہیں لیا۔ وہ بھی آخرت میں اتنا ہی نامراد ہوگا جتنا بدنام قسم کے دنیا دار، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ ۔
خاتونِ اسلام (نیا ایڈیشن)
خاتونِ اسلام کا پہلا ایڈیشن غیر معمولی طور پر مقبول ہوا اور بہت جلد ختم ہوگیا۔ اب اس کا دوسرا ایڈیشن چھپ کر تیار ہے۔ دوسرے ایڈیشن میں تقریبا۔ اصفحات کا اضافہ کیا گیا ہے۔ مزید معلومات کے لیے دفتر سے رابطہ قائم فرمائیں۔ ۔ منیجر مکتبہ الرسالہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues