Al-Risala · June 1988 · page 17

امتحان

الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۱۷

امتحان

احد کی جنگ (3 ھ) میں اہل ایمان کو سخت نقصان اٹھانا پڑا۔ ۷۰ مسلمان شہید ہوگئے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید زخم آئے۔ ان واقعات پر مدینہ کے مسلمان غم زدہ تھے۔ قرآن میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ دو جماعتوں کی مڈبھیڑ کے وقت تم کو جو مصیبت پیش آئی وہ اللہ کے حکم سے تھی ۔ اور اس لیے تھی تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تاکہ وہ ان لوگوں کو جان لے جو منافق ہیں (آل عمران، - ۱۶۶)

یہ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص سنت ہے جو مختلف الفاظ میں مختلف مقامات پر بیان ہوئی ہے۔ سورہ نمبر ۵۷ میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کوئی بھی مصیبت جو آتی ہے، خواہ وہ جس صورت میں بھی آئے، وہ پہلے سے کتاب خداوندی میں لکھی ہوئی ہے (الحدید ۲۲) اس سلسلہ میں آگے ارشاد ہوا ہے کہ اور تاکہ اللہ معلوم کرے کہ کون مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسول کی، بن دیکھے (وليعلم الله من ينصره ورسله بالغيب ، الحدید (۲۵)

احد کا حادثہ اسی قسم کا ایک امتحان تھا۔ مدینہ کے مسلمانوں میں دو قسم کے لوگ تھے ۔ ایک طاقتور ایمان والے، دوسرے کمزور ایمان والے ۔ طاقت ور ایمان والے ”غیب“ کی سطح پر سچائی کو پائے ہوئے تھے۔ وہ چیزوں کو حق اور ناحق کی روشنی میں دیکھتے تھے نہ کہ ظاہری فتح اور شکست کی روشنی میں ۔

کمزور ایمان والے معاملات کو صرف ظاہری سطح پر دیکھنے والی نگاہ رکھتے تھے۔ چنانچہ اُحد کے حادثہ کے بعد وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھنے لگے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی دعوت کی صداقت پر شک کرنے لگے۔ انھوں نے اپنی روش سے یہ ثابت کیا کہ وہ صرف اس حق کے ساتھی ہیں جو انھیں ساحل پر مل جائے ۔ جس حق کی خاطر دریا کی موجوں کے تھپیڑے کھانے پڑیں، اس سے انھیں کوئی دل چسپی نہیں۔

اس دنیا میں حق کو ”غیب“ کی سطح پر پانا پڑتا ہے۔ جو لوگ حق کو ”شہود“ کی سطح پر پانا چاہیں، وہ حق کو پانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues

Printed page