Al-Risala · June 1988 · page 18

کتمانِ شہادت

الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۱۸

کتمانِ شہادت

قدیم عرب میں یہود بڑی تعداد میں آباد تھے۔ ماضی کی روایات کی بنا پر ان کو اپنے ماحول میں سرداری حاصل تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قرآن اور اسلام کی دعوت پیش کی تو یہود آپ کے مخالف ہوگئے۔ انھوں نے یہ ثابت کرنا شروع کیا کہ ہم دین پر ہیں اور محمد دین سے دور ہوگئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہود کے نزدیک دین نام تھا دینِ اکابر کا۔ اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دینِ خدا کو دین کی حیثیت سے پیش کرتے تھے۔ اس فرق کی بنا پر وہ لوگ آپ کے دشمن ہوگئے۔

تاہم یہ دشمنی ظاہری تھی۔ یہود اپنے علم کے مطابق اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کے اکابر اس دنیا کے خدا نہیں ہیں بلکہ خدا اس دنیا کا خدا ہے۔ سچا دین وہی ہے جو آدمی کو خدا سے جوڑے نہ کہ وہ جو آدمی کو انسانی اکابر سے وابستہ کرے۔ یہود کا دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی صداقت پر گواہی دیتا تھا مگر دنیا کے فائدے اور قیادت کی مصلحتیں انھیں روکتی تھیں کہ وہ اپنے دل کی بات کو زبان پر لائیں۔ وہ سچائی کو سچائی جانتے ہوئے اس کے اعلان و اظہار سے باز رہے۔ یہود کی اس مجرمانہ خاموشی پر تنبیہ کرتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے :

ومن اظلم ممن كتم شهادة عنده اور اس سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اس گواہی من الله (البقره (۱۴۰) کو چھپائے جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے۔

جب آدمی کا دل ایک بات کی سچائی کا اقرار کرے تو گویا اس کے پاس خدا کی گواہی آگئی۔ یہ گواہی خدا کی ایک مقدس امانت ہے۔ آدمی کے اوپر لازم ہے کہ وہ اس گواہی کا اعلان کرے۔ جو شخص اس خدائی گواہی کے لیے نہ اٹھے وہ ظالم ہے، ایسے ظالموں سے خدا کبھی راضی نہیں ہو سکتا۔ وہ خدا کے معاملہ میں غیر جانبدار ہوگئے، اس لیے خدا بھی ان کے معاملہ میں غیر جانبدار ہوجائے گا، اور جس کے معاملہ میں خدا غیر جانبدار ہوجائے اس کا زمین و آسمان میں کوئی ٹھکانہ نہیں۔ سچائی موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔ جو لوگ سچائی کا ساتھ نہ دیں، انھوں نے خدا کا ساتھ نہیں دیا، انھوں نے خدا کو نظر انداز کر دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues

Printed page