Al-Risala · June 1988 · page 22

No enter for you.

الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۲۲

کے بجائے میرا سابقہ تنگ نظری اور تعصب کے ساتھ پیش آیا۔ وہ اپنے مضمون کو اس جملہ پر ختم کرتی ہیں :

I suddenly felt ashamed of having born a Hindu. اچانک مجھے اپنے ہندو پیدا ہونے پر شرم محسوس ہونے لگی۔

مذہب اصلاً خدا اور بندے کے درمیان تعلق کا نام ہے۔ تمام پیغمبروں نے یہ کیا کہ انھوں نے اس تعلق کی صحیح نوعیت کو بتایا۔ خدا کیا ہے اور بندہ کیا ہے۔ خدا اور بندہ کے درمیان کس طرح تعلق قائم ہو سکتا ہے۔ اس تعلق کے حدود اور نتائج کیا ہیں، یہ سب باتیں پیغمبروں نے واضح طور پر بتائیں۔ ہر پیغمبر کا یہی مشن تھا، اور اس مشن کو ہر ایک نے کامل طور پر انجام دیا۔ مگر اب اسلام اور دوسرے مذہبوں میں ایک فرق واقع ہو گیا ہے۔ دوسرے تمام مذاہب نے بعد کو وہ صورت اختیار کر لی جس کو "منظم مذہب" کہا جاتا ہے۔ پیغمبر کے بعد آنے والے لوگوں نے خود سے ایک ڈھانچہ بنایا اور اس کو مقدس قرار دے کر لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کی پیروی کریں۔ مزید یہ کہ ان مذاہب کی اصل ابتدائی تعلیمات محفوظ نہیں رہیں، اس لیے اب کوئی ایسی کسوٹی باقی نہیں جس پر جانچ کر اس ڈھانچہ کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔

اس معاملہ میں اسلام کا کیس بنیادی طور پر مختلف ہے۔ اسلام میں بھی اگر چہ ایسا ہوا کہ بعد کے لوگوں نے بہت سے اضافے کیے۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ اسلام کی اصل کتاب اور اس کی ابتدائی تعلیمات اپنی سابقہ شکل میں پوری طرح محفوظ ہیں۔ اس لیے ہر شخص کے لیے ممکن ہے کہ وہ اس کی روشنی میں جانچ کر معلوم کر سکے کہ کون سی بات خدا اور پیغمبر کی بات ہے، اور کون سی بات وہ ہے جو بعد کے انسانوں نے خود سے اضافہ کر کے خدا کے دین میں شامل کر دیا۔

اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام میں خدا اور بندے کے درمیان کوئی اور حائل نہیں۔ جب کہ دوسرے تمام مذاہب میں بگاڑ کے نتیجہ میں ایسا ہوا کہ خدا اور بندے کے درمیان ایک اور طبقہ حائل ہو گیا۔ وہ چیز جس کو موجودہ زمانہ میں "منظم مذہب" کہا جاتا ہے، وہ در اصل محرف مذہب کا دوسرا نام ہے۔ اس اعتبار سے اب صرف اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جو منظم مذہب نہیں۔ بقیہ تمام ادیان منظم مذہب کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues

Printed page