Al-Risala · June 1988 · page 21

No enter for you.

الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۲۱

ایک تجربہ

ایک ہندو خاتون شوبھا دے (Shobha De) کا مضمون ٹائمس آف انڈیا (۱۲ جولائی 1987) میں شائع ہوا ہے ۔ وہ ایک مندر میں داخل ہونا چاہتی تھیں ۔ دروازہ پر پہنچیں تو ایک پجاری نے ان کو سخت نظروں سے دیکھا اور کہا: " اندر نہیں جاسکتے " خاتون نے ابتدائی معاملہ کو نہیں سمجھا اور پارڈن (Pardon) کہہ کر آگے بڑھنا چاہا ۔ مگر انگریزی لفظ بولنا ان کے معاملہ کو اور نازک بنانے کا سبب بن گیا۔ اس نے ٹوٹی ہوئی انگریزی میں کہا :

No enter for you.

یہ پوری کا مشہور جگن ناتھ مندر تھا۔ خاتون حیرانی کے ساتھ دروازہ پر کھڑی رہیں ۔ کچھ دیر کے بعد وہ پجاری دوبارہ ان کی طرف مخاطب ہوا اور کہا کہ " اب کیا ہے " خاتون نے پوچھا کہ آخر کس وجہ سے مجھ کو مندر میں جانے سے روکا جا رہا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ صرف ہندووں کے لیے ہے۔ بات بڑھی تو وہ ایک پنڈا کو بلا کر لے آیا۔ ۔ اس نے کہا کہ " بہن جی ، آپ سمجھتے کیوں نہیں " خاتون بگڑ گئیں۔ آخر پنڈانے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ " جاؤ ، جاؤ " بعد کو مندر کے ایک آدمی نے خاتون سے کہا کہ آپ ہندو دکھائی نہیں دیتی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ " کیوں نہیں " آدمی نے کہا : اس لیے کہ آپ ہندی پہنے ہوئے نہیں ہیں۔ اس طرح بات ہوتی رہی یہاں تک کہ مندر کے آدمی نے پوچھا : " آپ کا شبہ نام " خاتون نے جھنجھلا کر نام بتایا تو ایک " ماہر " بلایا گیا۔ اس نے غور کرنے کے بعد کہا : یہ ہندو نام تو ہے ، مگر یہ کچھی نام ہے۔ خاتون اس قسم کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں :

The whole sham game was reinforcing all my prejudices against the fraud of organised religion. یہ تمام مصنوعی کھیل میرے اس مخالفانہ رجحان کو اور پختہ کر رہا تھا جو منظم مذہب کے فریب کے بارہ میں میرے اندر موجود تھا (ٹائمس آف انڈیا ۱۲ جولائی 1987)

ہندو خاتون آخر میں کہتی ہیں کہ اس تجربہ سے مجھے بہت دکھ پہنچا۔ مشہور ہندو رواداری

‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues

Printed page