No enter for you.
الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۲۴
یہ نام نہاد "کامل تعبیر" کچھ شاعروں اور انشاپردازوں کے ذہن کی پیداوار ہے، اس کا قرآن وحدیث سے کوئی تعلق نہیں۔
اس موضوع پر راقم الحروف نے اپنی کتاب "تعبیر کی غلطی" میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔ اور علمی دلائل سے اسے رد کر دیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کامل سپردگی (Total Submission) کا نام ہے نہ کہ کامل نظام (Total system) کا۔ ایک شخص جو اللہ پر ایمان لائے اس کو اپنی سوچ، اپنے جذبات، اپنے کردار اور اپنی عبادت گزاری میں کامل طور پر خدا کا فرمانبردار ہونا چاہیے۔ بحیثیت ایک فرد کے اس کو پوری طرح خدا کا بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ حتیٰ کہ جو شخص سیاسی اقتدار کی کرسی پر ہو، وہ بھی اپنی انفرادی حیثیت ہی میں اللہ کے یہاں جواب دہ ہے نہ کہ اجتماعی حیثیت میں۔ جہاں تک اجتماعی نظام کا تعلق ہے، اُس کا معاملہ اس سے بالکل الگ ہے۔ انفرادی احکام علی الاطلاق مطلوب ہیں۔ جب کہ اجتماعی احکام حالات کی نسبت سے مطلوب ہوتے ہیں۔ ایک شخص اگر اپنے انفرادی اختیار کے دائرہ میں اسلامی احکام کو اختیار کر لے تو وہ کامل مسلم ہو گیا۔ اس کے اسلام کی تکمیل اس پر منحصر نہیں کہ وہ انفرادی اختیار کے دائرہ سے باہر اجتماعی اختیار کے دائرہ میں بھی لازماً اسلام کی پیروی کرے ۔
اس معاملہ کو زکوٰۃ کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ زکوٰۃ مسلمان کے اوپر اسی طرح فرض ہے جس طرح نماز فرض ہے۔ مگر دونوں کے درمیان ایک بنیادی فرق ہے۔ نماز ایک ایسا حکم ہے جس کی ادائیگی ہر حال میں لازم ہے۔ نماز ایک مسلمان سے کسی حال میں ساقط نہیں ہوتی۔ مگر زکوٰۃ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ایک شخص اگر صاحب نصاب ہو تو اس کے لیے زکوٰۃ کی ادائیگی ضروری ہوگی۔ مگر جو شخص صاحب نصاب نہ ہو اس پر نہ زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہے، اور نہ یہ واجب ہے کہ وہ کمائی کرکے صاحب نصاب بنے تاکہ وہ قرآنی حکم کے مطابق زکوٰۃ ادا کر سکے ۔ مذکورہ ذہن کے لوگ ہندوستان کو غلبۂ کفر کا ملک سمجھتے ہیں۔ مگر یہ سراسر جہالت ہے۔ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے۔ دستور کے مطابق یہاں ہر مذہب کو یکساں طور پر آزادی حاصل ہے۔ یہاں کی حکومت مذہبی امور میں عدم مداخلت کی پابند ہے۔ اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ ہندوستان سیاسی اعتبار سے، غلیہ نا طرفداری کا ملک ہے نہ کہ غلبہ کفر کا ملک ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues