Al-Risala · July 1988 · page 2

مومنانہ مزاج

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۲

مومنانہ مزاج

حضرت عثمان بنا عفان اور حضرت عبداللہ بن مسعود کے درمیان ایک معاملہ میں اختلاف تھا۔ حضرت عثمان حج کے دوران منیٰ میں رباعی (چار رکعت والی) نماز کو قصر کے بجائے مکمل پڑھتے تھے۔ جب کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ان میں قصر کرنے کے قائل تھے ۔ حضرت عثمان نے بحیثیت خلیفہ حج کیا تو منیٰ میں رباعی نماز کو مکمل صورت میں پڑھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود بھی اس وقت مقتدیوں میں شامل تھے۔ انھوں نے قصر کے قائل ہونے کے باوجود خلیفہ ثالث کی اقتدا میں مکمل نماز ادا کی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے اپنے مسلک کے خلاف ایسا کیوں کیا۔ انھوں نے جواب دیا کہ اختلاف کرنا برا ہے (الخلافُ شَرّ) اسی کے ساتھ انھوں نے ایک اور بات کہی جو مومن کی نفسیات کو نہایت عمدہ طور پر بتاتی ہے ۔ انھوں نے کہا :

فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبُّلَتَانِ کاش میرا حصہ یہ ہو کہ چار رکعت میں سے میری دو (صحیح بخاری) رکعت ہی قبول ہو جائے ۔

عام لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب انھیں کسی انسان کی طرف سے معاملہ پیش آتا ہے تو وہ اسی انسان کو نشانہ بن کر اس سے زور آزمائی کرنے لگتے ہیں۔ جس سے معاملہ پیش آتا ہے اسی انسان سے وہ صحیح اور غلط کی لامتناہی بحث چھیڑ دیتے ہیں۔ مومن کا طریقہ اس سے جدا ہے ۔ مومن اس کے برعکس یہ کرتا ہے کہ وہ ہر معاملہ میں خدا کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس کو انسان کی طرف سے معاملہ پیش آتا ہے تب بھی اس کا دل خدا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ جس چیز کو لوگ انسانوں کے خانہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کو وہ خدا کے خانہ میں ڈال دیتا ہے، جہاں لوگ انسان کی نسبت سے کلام کرتے ہیں وہاں وہ خدا کی نسبت سے کلام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جن مواقع پر لوگ انسانوں کی طرف دوڑتے ہیں ، وہاں وہ خدا کی طرف دوڑنے لگتا ہے۔ جن مواقع پر لوگ رکعتوں کی تعداد پر بحث کر رہے ہوتے ہیں، اس کا ذہن اس فکر میں ڈوب جاتا ہے کاش میری چند رکعتیں ہی قبول ہو جائیں۔

مومن کا مزاج ہر معاملہ میں خدا رخی ہوتا ہے اور غیر مومن کا مزاج انسان رخی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page