مسئلہ نہیں حقیقت
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۹
مسئلہ نہیں حقیقت
ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلہ کا حل کیا ہے۔ ایک لفظ میں یہ کہ وہ جس چیز کو ”مسئلہ“ سمجھے ہوئے ہیں، اس کو وہ ”حقیقت“ سمجھنے لگیں ۔ جب ایک چیز کو مسئلہ سمجھا جائے تو اس کے خلاف غصہ اور جھنجھلاہٹ کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اور جب اس کو حقیقت سمجھ لیا جائے تو آدمی کے اندر موافقت کا اور جدوجہد کا ذہن ابھرنے لگتا ہے۔
ایک سادہ سی مثال لیجئے ۔ زمین میں جو کشش ہے، اس کی وجہ سے آدمی کے لیے بوجھ اٹھانا مشکل ہوتا ہے۔ اگر زمین کی قوت کشش کم ہو جائے تو بھاری بوجھ لے کر چلنا بھی بالکل آسان ہو جائے گا۔ مگر کوئی شخص اس کی شکایت نہیں کرتا ۔ کیوں کہ وہ اس کو مسئلہ نہیں بلکہ حقیقت سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شکایت اور احتجاج کرنے کے بجائے اس کے حل کی تدبیر ڈھونڈتا ہے مثلاً وہ اپنا بوجھ جانور پر لادتا ہے ، یا وہ پہیہ دار گاڑی بنا کر اس کے ذریعہ بوجھ کو ادھر سے اُدھر لے جانے کا انتظام کرتا ہے ۔ وغیرہ۔
یہی صورت حال سماجی مسائل کی بھی ہے۔ سماجی مسائل بھی دراصل مسائل نہیں بلکہ حقیقت ہیں۔ جس طرح زمین کی موجودہ کشش خدا کی پیدا کردہ ہے، اس پر ہم کو کوئی اختیار نہیں، اسی طرح سماجی مسائل بھی خدا کے منصوبہ کے تحت ہیں، وہ بہر حال باقی رہیں گے ، ہم ان کو ختم نہیں کر سکتے۔ یہاں بھی ہم کو حکمت اور تدبیر کا وہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو زمین کی کشش کے معاملہ میں ہم عملاً اختیار کیے ہوئے ہیں ۔
یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہمیشہ ایک اور دوسرے کے درمیان مقابلہ جاری رہتا ہے۔ مقابلہ کا یہ ماحول خود خدا کا قائم کردہ ہے ، اس لیے ہم اس کو ختم نہیں کر سکتے۔ ہم صرف اس کے حل کی تدبیر کر سکتے ہیں۔ اعراض، صبر، حکمت ، جدوجہد اس قسم کے تمام الفاظ دراصل اسی تدبیر کے مختلف نام ہیں۔
مسائل کو مسائل سمجھنے سے شکایت اور احتجاج کا ذہن پیدا ہوتا ہے ، مسائل کو چیلنج سمجھنے سے تدبیر اور ہمت کا ذہن ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues