Al-Risala · July 1988 · page 8

میوات کا سفر

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۸

اسٹالن جس وقت یہ ظالمانہ کارروائی کر رہا تھا ، اس وقت روس غلہ کے معاملہ میں نہ صرف خود کفیل تھا ، بلکہ وہ اپنے فاضل غلہ کو بیرونی ملکوں کے ہاتھ فروخت کرتا تھا ۔ دوسری طرف سعودی عرب اس وقت ایک صحرائی ملک شمار ہوتا تھا ، اور اپنی ضرورت کا تقریبأ تمام غلہ باہر کے ملکوں سے خریدتا تھا مگر آج صورت حال اس کے برعکس ہے ۔ روس غلہ خریدنے والا ملک بن گیا ۔ دوسری طرف سعودی عرب میں ملکی ضرورت سے زیادہ غلہ پیدا ہونے لگا ۔ ۱۹۸۸ میں سعودی عرب میں غلہ کی پیداوار دو ملین سے زیادہ ہوئی ہے ۔ اس میں سے پچاس ہزار ٹن گیہوں اس نے سوویت روس کے ہاتھ فروخت کیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اسٹالن نے ایسا فعل کیوں کیا ، جو بیک وقت بد ترین ظلم بھی تھا اور بد ترین حماقت بھی ۔ اس کا سبب ، ایک لفظ میں ، نظریاتی انتہا پسندی ہے ۔ تاریخ میں بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے بطور خود ایک نظریہ بنایا اور اس کو جبراً لوگوں کے اوپر نافذ کر دیا ۔ مگر تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ ان کا کیس نظریاتی جنون کا کیس تھا نہ کہ نظریاتی صداقت کا کیس ۔ بہت سے لوگوں کا یقین محض نظریاتی جنون ہوتا ہے نہ کہ حقیقتہً یقین ۔ بہت سے لوگوں کی قربانیاں محض اندھے جوش کے تحت ظاہر ہوتی ہیں نہ کہ فی الواقع سچائی کی طلب کے تحت ۔ یہ دنیا امتحان گاہ ہے ۔ اور اس امتحان گاہ کا سب سے زیادہ نازک پہلو یہ ہے کہ یہاں یقین بھی جھوٹی بنیادوں پر پیدا ہو سکتا ہے ، اور عمل اور رستہ بانی بھی ۔

میوات کا سفر

میوات کے تاریخی علاقہ پر بہت کچھ لکھا گیا ہے ۔ مگر میوات کا سفر اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے ۔ وہ سادہ معنوں میں صرف ایک علاقہ کا تذکرہ نہیں ، وہ ۲۰ سالہ مشاہدہ کا ایک تحریری ریکارڈ ہے۔ براہ راست طور پر اگر چہ وہ علاقہ میوات کی ایک تصویر ہے ۔ مگر بالواسطہ طور پر وہ پوری ملت اسلامیہ سے تعلق رکھتی ہے ۔ وہ سفر نامہ کی زبان میں ملّت کے حال کا جائزہ اور اس کے مستقبل کی تعمیر کا نقشہ ہے ۔ صفحات ۲۱۸ ہدیہ ۲۵ روپیہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page