Al-Risala · July 1988 · page 11

بلا تحقیق الزام

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۱۱

بلا تحقیق الزام

ہندستان ٹائمس (۸ فروری ۱۹۸۸) میں اشتراکی روس سے متعلق ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے مذکورہ اخبار نے اس کو لاس اینجلس ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نیوز سروس کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ رپورٹ کے مرتب کرنے والے مسٹرولیم این ہیں جو اخباری نمائندہ کے طور پر ماسکو میں مقیم ہیں۔ انھوں نے براہِ راست روسی ماخذ سے لے کر اسے تیار کیا ہے۔ ہندستان ٹائمس نے اس رپورٹ کو اپنے صفحہ 24 پر حسبِ ذیل عنوان کے ساتھ شائع کیا ہے:

روسی گم نام شکایتوں کی تحقیق پر پابندی لگاتے ہیں۔

خبر میں بتایا گیا ہے کہ روس میں زار کے زمانہ سے دستور رائج تھا کہ اگر کسی شخص کے خلاف ایک شکایت پولیس میں یا اور کسی سرکاری دفتر میں پہنچ جائے تو فورا اس کی تفتیش شروع ہو جاتی تھی۔ خواہ شکایت کرنے والے نے اپنا نام اور اپنا پتہ بھی نہ لکھا ہو۔ ۱۹۱۷ میں روس میں کمیونسٹ انقلاب آیا تو اس کے بعد بھی یہ المناک دستور نہ صرف رائج رہا بلکہ تیز تر ہو گیا۔ اب روس کے سرکاری اخبار پراودا نے اپنے شمارہ ۳ فروری ۱۹۸۸ میں یہ خبر دی ہے کہ سپریم سوویت کی پریسیڈیم نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ بے نام شکایتوں پر کسی کے خلاف چھان بین کا باب کھولنے کے رواج کو فوری طور پر بند کر دیا جائے ۔ ایسی ہر شکایت کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جائے جس پر شکایت کرنے والے نے اپنا نام اور پتہ تحریر نہ کیا ہو۔

روسی پولیس کا نظریہ یہ اب تک یہ تھا کہ جہاں دھواں ہے وہاں آگ ضرور ہوگی۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ کسی کے خلاف گم نام شکایت موصول ہوتے ہی اس شخص کی تفتیش شروع ہو جاتی تھی۔ اب اس کے ذمہ یہ تھا کہ وہ ثابت کرے کہ وہ قصور وار نہیں ہے۔ اس رواج کی بنا پر لاکھوں انسان نا قابلِ بیان مصیبتوں کا شکار ہوئے ۔ وہ جیلوں میں بند کر دئے گئے ، انھیں گولی مار دی گئی۔ حالانکہ ان کے خلاف خبر دینے والے نے اپنی خبر کی کوئی دلیل بھی نہیں دی تھی۔

اس رواج کی بنا پر ہر آدمی کو لامحدود موقع مل گیا تھا کہ جس کو چاہے اندوہناک پریشانی میں مبتلا کر دے ۔ مثلاً کسی دفتر کا ایک ملازم اپنے افسر اعلیٰ سے خفا ہو تو وہ اپنا نام ظاہر کئے بغیر اس کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page