بلا تحقیق الزام
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۱۲
خلاف الزام مرتب کرے گا اور اس کو پولیس کے دفتر میں بھیج دے گا۔ اسی طرح جس شخص کو بھی کسی سے شکایت ہو وہ بغیر نام کی ایک تحریر پولیس کو بھیج دے گا اور فوراً اس کی پوچھ گچھ شروع ہو جائے گی۔ ایسے لوگ اگر خبر کی تفصیل پوچھتے تو پولیس کی طرف سے یہ مختصر جواب ملتا " ہم کو اوپر سے سگنل ملا ہے " مذکورہ قانون کے تحت پہلی بار روسی شہریوں کو یہ حق حاصل ہوا ہے کہ وہ پولیس سے پوچھ سکیں کہ " کس نے تم کو یہ سگنل دیا ہے، اس کا نام بتاؤ "
روسی شہریوں کو جو حق اشتراکی انقلاب کے ۷۰ سال بعد ۱۹۸۸ میں ملا ہے، وہ اسلام نے ہم سو سال پہلے اپنے قائم کردہ نظام میں اول روز ہی لوگوں کو دے دیا تھا۔ اسلام کی تعلیم الحجرات قرآن کی ۴۹ ویں سورہ ہے۔ اس کو سورۃ الاخلاق والآداب بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں اسلام کی اخلاقی تعلیمات اور معاشرتی آداب بتائے گئے ہیں۔ انھیں میں سے ایک وہ ہے جو ان الفاظ میں مذکور ہے:
یا ایھا الذین آمنوا إن جاءكم فاسق اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر بنبأ فتبينوا ان تصيبوا قوماً لائے تو تم اچھی طرح اس کی تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو، نادمين (الحجرات ۶) پھر تم کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔
علامہ ابو البرکات عبد اللہ بن محمود النسفی نے اس کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: كأنه قال أي فاسق جاءكم بآئ نبأ گویا کہ یہ فرمایا کہ کوئی بھی فاسق تمہارے پاس (فتبينوا ) فتوقفوفیه و تطلبوا کوئی خبر لے کر آئے تو اس کے معاملہ میں ٹھہرو اور بیان الامر و انكشاف الحقيقة و لا واقعہ کی تفصیل معلوم کرو اور حقیقت حال کا پتہ تعتمد وا قول الفاسق (صفحه ۱۶۸) لگاؤ۔ محض فاسق کے قول پر اعتماد نہ کرلو۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے بارہ میں خبر دی گئی ہے، اس کے پیچھے پڑنے سے پہلے خود خبر دینے والے کی تحقیق کرو کہ وہ قابل اعتماد ہے یا ناقابل اعتماد۔ اور اگر شکایت کرنے والے نے اپنا نام بھی نہ بتایا ہو تو یہ صرف ایک بے بنیاد گمان ہے ، اور گمان کی تحقیق کرنا اسلام میں منع ہے ،
‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues