Al-Risala · July 1988 · page 14

اخلاق کا معیار

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۱۴

اخلاق کا معیار

قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کسی سے تمہاری دشمنی ہو جائے تو تم ایسا مت کرو کہ اس کر ساتھ بے انصافی کرنے لگو، بلکہ تم ہر حال میں انصاف کرو۔ یہی بات تقویٰ کے مطابق ہے (لا یجرمنکم شنآن قوم علی ان لا تعدلوا اعدلوا هو اقرب للتقویٰ)۔

مفسر ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے : یعنی کسی کا بغض تم کو نہ ابھارے کہ اس کے معاملہ میں تم انصاف کو چھوڑ دو۔ بلکہ ہر ایک کے معاملہ میں انصاف کرو خواہ وہ دوست ہو یا دشمن (ای لایحملنکم بغض قوم علی ترک العدل فیهم بل استعملوا العدل فی كل احد صديقاً كان او عدواً)۔ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ موجودہ دنیا میں تقویٰ کا سب سے زیادہ یقینی معیار ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان معتدل تعلقات ہوں تو دونوں بالکل ٹھیک نظر آتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں اعلیٰ اخلاق پر قائم ہیں۔ مگر کسی کے اخلاق کو جانچنے کا یہ صحیح معیار نہیں۔ کوئی شخص اخلاقی اعتبار سے کیسا ہے ، اس کا اندازہ معتدل حالات میں نہیں ہوتا ۔ اس کا صحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ دونوں کے درمیان تلخی اور شکایت کی فضا پیدا ہو گئی ہو۔ ایک پھل اندر سے کیسا ہے ، اس کا اندازہ آپ پھل کے چھلکے کو دیکھ کر نہیں کر سکتے ۔ اس کا پتہ صرف اس وقت چلتا ہے جب کہ پھل کو توڑا جائے۔ اسی طرح کوئی انسان حقیقتہ کیا ہے ، اس کا اندازہ معمول کے حالات میں نہیں ہوتا ، بلکہ غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے۔ جب آدمی کے ساتھ کوئی خلاف مزاج واقعہ پیش آتا ہے ، اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کیا تھا اور کیا نہیں تھا۔ عام حالات میں آدمی اپنے آپ کو چھپائے رہتا ہے۔ مگر جب اس کی شخصیت کو کوئی شدید جھٹکا لگتا ہے اس وقت اس کا اندر اس کے باہر آ جاتا ہے ۔ اس وقت کھل جاتا ہے کہ وہ شریف تھا یا غیر شریف ۔ وہ بے اخلاق تھا یا با اخلاق ۔

جس شخص سے آپ کا بگاڑ نہیں ہوا اس نے خوش اخلاقی برت کے آپ خدا کے نزدیک خوش اخلاق نہیں ہو سکتے ۔ خدا کے نزدیک آپ اس وقت خوش اخلاق قرار پائیں گے جب کہ آپ اس شخص کے معاملہ میں خوش اخلاق ثابت ہوں جس سے آپ کا بگاڑ پیدا ہو چکا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page