Al-Risala · July 1988 · page 13

بلا تحقیق الزام

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۱۳

جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : اذا ‌ظَنَنْتَ فلا ‌تُحَقِّقْ گمان کی تحقیق نہ کرو ، حضرت عبد اللہ بن عمر نے فرمایا کہ ہم کو ٹوہ لگانے سے منع کر دیا گیا ہے ( انا قَدْ نهینا عن التجسس ) اسی بنا پر ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب آپ سے متعلق روایات جمع کرنے کا کام شروع ہوا تو محدثین نے علم حدیث میں وہ اصول مقرر کیا جس کو " جرح و تعدیل " کہا جاتا ہے ، اور اس کے تحت 70 راوی کے ذاتی حالات کی تحقیق کی گئی ۔ جب تک راوی کی ثقاہت ثابت نہ ہو جائے ، اس وقت تک اس کی روایت کو معتبر تسلیم نہیں کیا گیا ۔ پھر اسی بنا پر فقہ میں یہ مستقل اصول مقرر کیا گیا کہ البينة على المدعى ( ثبوت کا بار مدعی کے اوپر ہے ) جو شخص دعویٰ کرے ، اسی کے اوپر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں ثبوت فراہم کرے ، نہ یہ کہ جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے ، اس سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ تم اپنے بے قصور ہونے کو ثابت کرو ۔

اشتراکی روس میں ، ہر سال تک مذکورہ جابرانہ قانون کے اجرا کو اگر ارادی ظلم سمجھا جائے تو اشتراکیت کا معاشرہ سرخ جنت کے بجائے سرخ جہنم ثابت ہوتا ہے ۔ اور اگر بالفرض اس کو ارادی ظلم نہ سمجھا جائے تو یہ ماننا ہوگا کہ مذہبی قانون وضعی قانون کے مقابلے میں چودہ سو سال آگے ہے۔ ایسی حالت میں مذہب کو دور قدیم کی چیز قرار دے کر اس کو دور جدید کے لئے قابل ترک بتانا ایک ایسی بات ہے جو ثابت شدہ حقیقت کے سراسر خلاف ہے ۔ ایسی حالت میں وضعی قانون کو فرسودہ قرار دیا جانا چاہئے نہ کہ الہامی قانون کو ۔ تذکیر القرآن تذکیر القرآن کے پانچ پارے ( سورہ یونس تا سورہ بنی اسرائیل ) علیحدہ سے مجلد کرائے گئے ہیں ۔ جن لوگوں کے پاس تذکیر القرآن کی ابتدائی جلد دس پاروں والی ہے وہ مذکورہ جلد کے لیے اپنی فرمائش روانہ فرمائیں ۔ منیجر مكتبة الرسالة

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page