Al-Risala · January 1988 · page 31

Hold the flight please. Passenger is coming.

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۳۱

جموں ریاست جموں و کشمیر کی سرمائی راجدھانی ہے۔ یہاں ڈوگرہ راجپوت کی حکومت تھی۔ ۱۹ ویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اس پر قبضہ کر لیا۔ رنجیت سنگھ کے انتقال کے بعد دوبارہ گلاب سنگھ کا قبضہ ہو گیا۔ اب یہ ریاست دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے ۔

جموں کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں یہ روایت ہے کہ راجہ جمونے ایک مرتبہ اس علاقہ میں شکار کے دوران دیکھا کہ ایک شیر اور بکری ایک ہی تالاب میں اکٹھے پانی پی رہے ہیں۔ راجہ اس سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے اس مقام کو مقدس سمجھتے ہوئے یہاں ایک نئے شہر کا سنگ بنیاد رکھ دیا اور اس کو جمبونگری کا نام دیا۔ بعد کو یہ مقام جموں کے نام سے مشہور ہو گیا ۔ اور راجہ جمبو لوچن کی راجدھانی قرار پایا ۔

1947 تک واقعہ یہ علاقہ ایسا ہی تھا۔ یہاں مختلف فرقے اور مختلف طبقے کے لوگ محبت کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے۔ مگر ۱۹۴۷ کے " انقلاب " نے صورت حال بدل دی اور وہ بدستور اب تک بدلی ہوئی ہے ۔

میرے پاس انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کا ۱۹۸۷ کا ایڈیشن ہے ۔ اس میں جموں و کشمیر کا ذکر دو مقام پر ہے۔ ایک مائیکرو پیڈیا جلد پنجم (صفحہ ۵۱۲) میں ، اور دوسرے میکرو پیڈیا جلد ۱۰ (صفحہ ۲۹) میں۔ اس سفر کے دوران میں نے چاہا کہ جموں کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کروں۔ اس کو کھولا تو دونوں مقامَات پر ایک مشترک منظر تھا۔ دونوں مقامات پر ابتدائی پیراگراف تقریباً ایک ایک انچ کے بقدر مٹایا ہوا تھا۔ (ملاحظہ ہو نقشہ اگلے صفحہ پر) مطبوعہ سطروں پر اتنی گہری سیاہی پھيري ہوئی تھی کہ کسی طرح بھی ان سطروں کا پڑھنا ممکن نہ تھا۔ غور کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ یہ ہند سرکار کے حکم سے مٹایا گیا ہے۔ غالباً اس میں کچھ ایسے الفاظ تھے جو ہند سرکار کے نزدیک قابل اعتراض تھے۔ اس قیاس کی تصدیق اس سے ہوتی ہے کہ انسائیکلو پیڈیا کی جلدوں میں ابتدائی صفحہ پر اسٹیمپ کے ذریعہ بعد کو یہ الفاظ ثبت کیے گیے ہیں :

The external boundaries of India as depicted in the maps are neither correct not authentic. (انڈیا کی بیرونی سرحدیں جو نقشوں میں دکھائی گئی ہیں وہ نہ صحیح ہیں اور نہ مستند )۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues

Printed page