مسلمانوں کا مسئلہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۰
یہاں میں ایک خصوصی میٹنگ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو نئی دہلی کے وٹھل بھائی پٹیل ہاؤس میں ۷ مارچ ۱۹۸۷ء کو ہوئی تھی۔ یہ میٹنگ بابری مسجد (اجو دھیا) کے مسئلہ پر تھی۔ ایک طرف بابری مسجد تحریک کے ذمہ داران تھے اور دوسری طرف ہند و شخصیتیں ۔ ہندو جانب سے جو افراد شریک ہوئے ، ان میں ایک ممتاز نام مہنت اوید ناتھ کا ہے جو رام جنم بھومی مکتی یگیہ سمیتی کے صدر ہیں۔ راقم الحروف بھی خصوصی دعوت کے تحت اس میٹنگ میں موجود تھا۔
اس موقع پر دونوں طرف کے لوگوں نے اپنا اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔ اکثر ہندو صاحبان نے مصالحت کے انداز میں تقریر کی۔ مہنت اوید ناتھ نے واضح اور متعین انداز اختیار کیا۔ انھوں نے کہا کہ بابری مسجد ہمارے نزدیک رام جنم بھومی پر بنائی گئی ہے۔ مسجد تو آپ دوسری جگہ بھی بنا سکتے ہیں مگر جنم بھومی تو وہیں رہے گی جہاں کہ وہ ہے۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ جگہ ہم کو واپس دے دی جائے تاکہ ہم اس کو اس کی ابتدائی صورت میں تعمیر کر سکیں۔ مسلم نمائندے حسب معمول اس طرح تقریر کرتے رہے جیسے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے محض قومی وکیل بن کر اس مجلس میں شریک ہوئے ہیں۔
اجودھیا کے اس جھگڑے نے جو شدت اور نزاکت اختیار کر لی ہے ، اس کے پیش نظر اس معاملہ میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو فیصلہ کی ایسی مشترک بنیاد پر لایا جائے جس سے دونوں اتفاق کر سکیں ۔ قومی وکالت اور جارحانہ مناظرہ والا انداز کسی بھی درجہ میں حل کا دروازہ کھولنے والا میں بن سکا۔
مذکورہ میٹنگ میں جب دوسرے لوگ بول چکے تو حاضرین کے اصرار پر میں نے ایک مختصر تقریر کی۔ سب سے پہلے میں نے یہ کہا کہ مسجد کا معاملہ اسلام نہیں بے حد نازک ہے۔ مسجد کا مسئلہ یہ ہے کہ جو مسجد ایک بار بن جائے وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہے۔ اس کو نہ اس کی جگہ سے ہٹایا جا سکتا اور نہ کسی طرح اسے ختم کیا جا سکتا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسجد اگر واقعی وہ مسجد ہے تو مسلمان اپنے عقیدہ کی رو سے کبھی اس کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہو سکتے۔
مگر اسی کے ساتھ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مسجد ایک مقدس عبادت خانہ ہے۔ اس لیے مسجد کی تعمیر لازماً جائز زمین پر ہونا چاہیے ۔ اگر غصب کی ہوئی زمین پر مسجد بنائی جائے تو اسلامی فقہاء کا کہنا ہے کہ ایسی مسجد میں نماز جائز نہیں لا تجوز فیہ الصلوة)
‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues