Al-Risala · July 1988 · page 21

مسلمانوں کا مسئلہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۱

جہاں تک غیر مذاہب کے عبادت خانہ کو ڈھا کر اس کی جگہ مسجد بنانے کا سوال ہے، تو اصولاً یہ اسلام کے بالکل خلاف ہے ، مذاہب کے عبادت خانوں کو ڈھانا ، قرآن کے مطابق ایک ظالمانہ فعل ہے (رائج ۴۰ ) خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں شام و فلسطین کے عیسائی علاقے اسلامی مملکت میں شامل ہوئے ۔ اس وقت ان کے لیے جو عہد نامے لکھے گئے ، ان میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی درج تھا کہ ان کے مذہبی امور میں کوئی دخل اندازی نہ کی جائے گی ( لا يحال بينهم و بين شرائعهم ) اہل فلسطین کے معاہدہ میں یہ بھی درج کیا گیا کہ ان کے گرجا میں رہائش نہ کی جائے گی اور نہ ان کو ڈھایا جائے گا اور نہ ان میں کچھ کمی کی جائے گی ( لا يسكن كنائسهم ولا تُهدم ولا ينتقص منها )

ان تمہیدی باتوں کے بعد میں نے کہا کہ اجودھیا کی بابری مسجد کے بارے میں ہمارے سامنے دو مطالبے ہیں۔ اور دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ مسلمان کہتے ہیں کہ یہ شروع سے مسجد ہے ۔ ہندو کہتے ہیں کہ وہ پہلے رام جنم استھان تھی۔ بعد کو اُسے توڑ کر مسجد بنا یا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان فیصلہ کی بنیاد کیا ہو ۔

میں نے کہا کہ یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ صرف دعویٰ اور مطالبہ کی بنیاد پر اس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ۔ فیصلہ کے لیے کسی دوسری چیز کو بنیاد بنانا پڑے گا جو ان دونوں سے الگ ہو یہ دوسری چیز صرف ایک ہو سکتی ہے ، اور وہ تاریخ ہے ۔ اس مسئلہ کو ختم کرنے کی واحد معقول صورت یہ ہے کہ دونوں فریق اس پر راضی ہو جائیں کہ تاریخ کا جو فیصلہ ہو گا اس کو دونوں فریق بلا بحث قبول کر لیں گے ۔

پھر میں نے کہا کہ آپ حضرات اگر اصولی طور پر اس بات کو مان لیں تو پھر میری تجویز ہے کہ مسلّمہ تاریخ دانوں کا ایک بورڈ بنایا جائے ۔ یہ بورڈ خالص تاریخی حقائق کی روشنی میں معاملہ کا جائزہ لے اور تاریخی شہادتوں کی بنیاد پر وہ جس رائے پر پہنچے اس کے مطابق وہ اس کا فیصلہ کر دے۔ دونوں فریق پیشگی اقرار نامہ کے مطابق ، اس کے پابند ہوں کہ مذکورہ بورڈ کا جو فیصلہ ہوگا اس کو ہر دو فریق مزید بحث کے بغیر مان لیں گے ۔

مزید میں نے کہا کہ اس بورڈ (یا تاریخی عدالت ) میں حکومت کا بھی ایک باضابطہ نمائندہ موجود ۲۱ ا رسالہ جولائی ۱۹۸۸ء

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page