Al-Risala · July 1988 · page 25

مسلمانوں کا مسئلہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۵

اور وہ یہ ہے کہ اگر مارچ ہو تو لیڈر مارچ کا "جنرل" بن جائے ۔ وہ مارچ سے دور کسی محفوظ مقام پر بیٹھ کر مارچ کی رہنمائی کرے ۔ مگر اس قسم کی جھوٹی ہوشیاری لیڈر صاحبان کے کام آنے والی نہیں ۔ کیوں کہ ہر شخص جانتا ہے کہ جنرل ایک منظم فوج کو دوسری منظم فوج سے لڑاتا ہے۔ جب کہ مارچ (کوچ) اس قسم کی لڑائی نہیں ۔ مارچ اصلاً ایک مظاہرہ ہے۔ اور مظاہرہ اس وقت تک نامکمل ہے جب تک لیڈر کی گاڑی اس کے آگے آگے نہ چل رہی ہو ۔

اجودھیا مارچ کا فیصلہ نام نہاد مسلم لیڈروں نے بوٹ کلب ریلی کے موقع پر ۳۰ مارچ ۱۹۸۶ کو کیا تھا۔ اس کے بعد سے مسلسل مسلمانوں کے جذبات اس عنوان پر ابھارے جاتے رہے۔ یہاں تک کہ فیض آباد کی میٹنگ (۲۲ مئی ۱۹۸۸) میں "بابری مسجد ایکشن کمیٹی" کے ذمہ داروں نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۸ کو طویل مارچ کرکے اجودھیا پہنچیں گے اور ہر قیمت پر بابری مسجد میں داخل ہو کر جمعہ کی نماز ادا کریں گے ۔ کل ہند بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر (جو کہ ایم پی بھی ہیں) نے ایک پریس کانفرنس میں اس فیصلے کا اعلان کیا (قومی آواز، ۲۳ مئی ۱۹۸۸) یہ فیصلہ بلا شبہ مجنونانہ حد تک غلط ہے۔ اس قسم کا فیصلہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو لیڈری کی ہوس میں اندھے ہو چکے ہوں۔ اور انھیں اپنی لیڈری کے سوا کوئی اور چیز دکھائی نہ دیتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی نام نہاد قیادت نے بابری مسجد کے بارہ میں جوش دلا کر مسلمانوں کو اب ایک ایسے نازک مقام پر لاکر کھڑا کر دیا ہے جہاں ان کے ایک طرف گہری کھائی ہے اور دوسری طرف خونخوار بھیڑیا ۔

اب ظاہر ہے کہ صرف دو امکان ہے۔ یا تو بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے اعلان کے مطابق 14 اکتوبر ۱۹۸۸ کو اجودھیا مارچ ہو، یا اجودھیا مارچ نہ ہو۔ تاہم دونوں میں سے جو بات بھی ہوگی وہ یقینی طور پر سنگین ترین نتائج پیدا کرے گی ۔ موجودہ صورت حال میں جب کہ دونوں طرف کے لوگوں کے جذبات انتہائی حد تک بھڑک دیئے گئے ہیں، دونوں میں سے کوئی بات بھی سادہ بات نہیں ہوسکتی ۔

اگر مذکورہ اعلان کے مطابق، مسلمانوں کا جتھا مارچ کرتے ہوئے اجودھیا پہنچتا ہے اور بابری مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اس میں شک نہیں کہ اس کو نہایت خونخوار مزاحمت

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page