Al-Risala · July 1988 · page 24

مسلمانوں کا مسئلہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۴

کے دائرہ سے نکال کر ملکی کش مکش کے دائرہ میں لانا، مجرمانہ حد تک ایک غلط فعل ہے۔ مزید یہ کہ یہ اصل مسئلہ کے حل میں رکاوٹ بھی ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے ملک کے ہندوؤں کو اپنی مخالفت پر کھڑا کر دیا جائے۔ دور جمہوریت میں اس توسیع کے معنی کیا ہیں، اس کو ہر آدمی سمجھ سکتا ہے۔ میں ذاتی طور پر دہلی کی کم از کم نصف درجن مسجدوں کو جانتا ہوں جو ۱۹۴۷ کے بعد اغیار کے قبضہ میں چلی گئی تھیں ۔ بعض مسلمانوں کے دل میں ان کا درد پیدا ہوا۔ خوش قسمتی سے یہ لوگ لیڈر نہیں تھے ۔ چنانچہ انھوں نے خالص مقامی انداز میں اس کی بازیابی کی کوشش شروع کی ۔ انھوں نے نہ جلسہ جلوس کی دھوم مچائی۔ اور نہ اخبارات میں بیانات شائع کیے ۔ بس خاموش انداز میں دفتری اور قانونی کارروائی کرتے رہے۔ انھیں اس کام میں مقامی ہندوؤں کا بھی موثر تعاون ملا۔ ان میں سے کئی مسجدوں کا رقبہ بابری مسجد سے بہت زیادہ بڑا تھا ۔ مگر یہ تمام مسجدیں مکمل طور پر مسلمانوں کے قبضہ میں آگئیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جذباتی تقریریں کر کے ایک مسجد کو مقامی اشو کے بجائے ملکی استو بنانا سستی لیڈری حاصل کرنے کی کوشش تو ہو سکتی ہے، مگر وہ مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش ہر گز نہیں۔ اجودھیا کی بابری مسجد تحریک کے ”چیئر مین“ کے جس انٹرویو کا ذکر اوپر ہوا ، اس کا ایک حصہ یہ ہے : سوال کیا مسلم قائدین اجودھیا مارچ میں شریک ہوں گے، یا مسلم قائدین گھر میں بیٹھیں گے اور عوام مارچ میں نقصان اٹھائیں گے ۔

جواب ترتیب پر منحصر ہے۔ میں نے تو کوئی ایسی فوج نہیں دیکھی جس میں جنرل بھی آگے جاکر لڑتا ہے۔ کسی کا یہ کہنا احمقانہ ہے کہ صرف قائدین آگے چلے جائیں۔ یہایہ کہنا کہ محض عوام ہی آگے رہیں قائدین آگے نہ آئیں (افکار علی گڑھ مئی ۱۹۸۸ ، صفحہ ۴۲)

بابری مسجد ریلی (۳۰ مارچ ۱۹۸۷) کے بعد سے بار بار مارچ (کوچ) کی تاریخ مقرر کرنے کے لیے نام نہاد قائدین کی میٹنگیں ہوتی تھیں ، مگر ہر بار تاریخ کا تعین کیے بغیر میٹنگ برخواست ہو جاتی تھی۔ عام لوگ یہ خیال کرنے لگے تھے کہ مارچ کی تاریخ کا تعین اس لیے نہیں کیا جا رہا ہے کہ مارچ کے پر خطر اقدام میں لیڈر کو آگے رہنا پڑے گا ۔ اور لیڈر صرف ملت کے بچوں کو یتیم بنانے میں دل چسپی رکھتا ہے، وہ اپنے بچوں کو یتیم بنانا نہیں چاہتا۔

مگر مذکورہ سوال و جواب بتا تا ہے کہ لیڈر کے سیاسی ذہن نے غالباً اس مشکل کا حل دریافت کر لیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page