Al-Risala · July 1988 · page 27

صفحات ۱۱۳ قیمت ۲۵ روپے

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۷

انداز میں مارچ کرنے کا نعرہ لگائیں، عام آدمی کے ذہن میں اس مارچ کا مطلب ہندومسلم ٹکراؤ ہوگا، جو فاشسٹ طاقتیں ہندوستان سے سیکولزم کا جنازہ نکالنا چاہتی ہیں، مارچ کو بہانہ بنا کر گاؤں گاؤں، قصبہ فساد کرانے اور ہنگامے کرانے کی سازش کریں گی ۔ جس طرح میرٹھ کے قتل عام کے موقع پر مسلم قیادت بے دست و پا نظر آ رہی تھی، اسی طرح اس موقع پر بھی خاموش تماشائی بنی نظر آئے گی، اور کٹے گا، مرے گا، لٹے گا عام مسلمان، غریب مسلمان، بدحال ، بے بس مسلمان ۔ مارچ کے اس فیصلے کے ساتھ مسلم لیڈروں کو اس بات کو سامنے رکھنا ہوگا کہ ان کا موقف کتنا بھی درست کیوں نہ ہو، ان کی حکمت عملی کے نتائج کیا ہوں گے ۔ اور یہ نتائج کے بھگتنے ہوں گے۔ اور سب سے بڑی بد نصیبی تو یہ ہوگی کہ ان سب قربانیوں کے باوجود اس راستہ کو اپنا کر مسلمانوں کو بابری مسجد نہیں مل سکے گی ۔ خود بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے قائد بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں ۔ صفحہ 1 حقیقتِ حج مولانا روم الدین مہرالدین اللہ تعالیٰ کی یاد ہیں۔ جب کہ حج اگر چہ اسطور خدا کی رغبت اور حقیقت حج از: مولانا وحید الدین خاں حج کا سفر خدا کی طرف سفر ہے ۔ حج حق تعالیٰ سے ملاقات ہے۔ دوسری عبادتیں خود اللہ تعالی تک پہنچ جانا ہے۔ عام عبادت ے تو حج شہود کی سطح پر خدا کی عبادت اوریب حال پر نظر رکھنا ضروری کرنا ہے ۔

صفحات ۱۱۳ قیمت ۲۵ روپے

( صفحات ۱۱۳ قیمت ۲۵ روپیه ، حصہ : ۲۸ صفحات ۲۸ قیمت ۴۱ روپیہ )

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page