Al-Risala · July 1988 · page 28

صفحات ۱۱۳ قیمت ۲۵ روپے

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۸

ایک سفر

۳ اپریل ۱۹۸۸ء کو سہارن پور سے کچھ صاحبان اسلامی مرکز میں آئے۔ یہ ڈاکٹر محمد اسلم صاحب اور ان کے ساتھی تھے۔ انھوں نے کہا کہ آل انڈیا اردو تعلیمی بورڈ اور فخرالدین علی احمد اکیڈمی کے مشتر کہ فیصلے سے یہ طے کیا گیا ہے کہ محمود علی خاں نیشنل انٹیگریشن ایوارڈ (۱۹۸۸) آپ کو دیا جائے۔ اس مقصد کے لئے ہم سہارن پور میں ۹ اپریل ۱۹۸۸ء کو ایک خصوصی تقریب منعقد کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں اس قسم کا آدمی نہیں ہوں۔ مجھ کو آپ ایوارڈ نہ دیجئے، مجھ کو آپ دعا دیجئے ۔ تقریباً ایک گھنٹہ تک میں ان کے ذہن کو بدلنے کی کوشش کرتا رہا، مگر وہ کسی قیمت پر راضی نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ مجبوراً مجھے اس پیش کش کو منظور کرنا پڑا۔

ان معاملات میں میرا مزاج اس سے مختلف ہے جس کی کہانیاں مسلمانوں، نیز غیر مسلموں کی مذہبی شخصیتوں کے بارے میں پر فخر طور پر بیان کی جاتی ہیں۔ یعنی ان کو فلاں چیز کی پیش کش کی گئی اور انھوں نے اس کو بے نیازی کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ ذاتی طور پر میں اس روش کو تواضع کے خلاف سمجھتا ہوں۔ میرے تمام جاننے والے جانتے ہیں کہ طبعاً میں گمنامی میں رہنا پسند کرتا ہوں۔ شہرت اور اعزاز سے مجھے بیزاری کی حد تک وحشت ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اس کو ذہنی پستی کی علامت سمجھتا ہوں کہ کوئی شخص دوسروں کی طرف سے ملنے والے اعزاز پر خوش ہو یا اس کا طالب بنے۔ اس قسم کے اعزازات کی طلب بلا شبہ مومنانہ نفسیات کے خلاف ہے۔ مگر یہ بات بھی مومنانہ نفسیات کے خلاف ہے کہ آدمی اس قسم کی پیش کش کو اصرار کے باوجود ٹھکرادے۔ کیوں کہ یہ اس تواضع کے مطابق نہیں جو اس دنیا میں مومن و مسلم کا اصل سرمایہ ہے۔

جیمس رسل لاول (James Russel Lowell) نے کہا ہے کہ وہ چیز جس کو لوگ بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں وہ اعزاز ہے خواہ وہ جنازہ کے ماتمی جلوس کی پیشوائی کیوں نہ ہو : What men prize most is a privilege, even it be that of chief mourner at a funeral. یہ اعزاز پسندی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ تاہم اصل مطلوب، اعزاز والے چینہ کو رد کرنا نہیں بلکہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page