If you have a good excuse, don't use it.
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۴۲
جس میں انہیں یک طرفہ طور پر شکست ہوئی۔
شاملی کے اس "جہاد" کی تفصیلات مولا نا منتظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب سوانح قاسمی مطبوعہ ۱۳۷۳ھ میں درج کی ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ شاملی میں انگریزوں کی یک گڑھی (چھوٹا قلعہ) تھا۔ تھانہ بھون کے علماء اور ان کے شاگردوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ تھانہ بھون اور شاملی سے جہاد کرتے ہوئے دہلی کی طرف بڑھیں۔ اور پھر دہلی کو انگریزی اقتدار سے آزاد کرائیں۔ یہ اقدام در حقیقت پایۂ تخت دہلی تک پہنچنے کے لئے کیا گیا تھا۔ مولانا طیب کے الفاظ میں" سرفروشان دین اپنے سروں کو ہتھیلیوں پر لے کر ایک منظم طاقت سے ٹکرانے کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اور تھانہ بھون سے شاملی کی طرف مارچ شروع کیا جس کا نصب العین دہلی تھا۔ اس فوج میں مولانا محمد قاسم نانوتوی ، مولا نا رشید احمد گنگوہی، مولانا حافظ محمد ضامن ، مولا نا محمد منیر نانوتوی وغیرہ شریک تھے۔
یہ جہتا تحصیل شاملی پر چڑھ دوڑا۔ شاملی کے میدان میں ان کا مقابلہ انگریزی فوج سے ہوا۔ شاملی کی یہ گڑھی جس میں انگریزی فوج کے سپاہی تھے ایک ایسے کھلے میدان میں واقع تھی جس کے چاروں طرف کوئی ایسی جگہ نہ تھی جسے گڑھی کے باہر والے آڑ بنا سکتے ہوں۔ مجاہدین کا گروہ جو گڑھی کے باہر والے میدان میں تنگول کی طرح پھیلا ہوا تھا ان پر انگریزی فوج نے بندوقوں سے مسلسل فائرنگ شروع کر دی۔ خود انگریزی فوج دیوار کے پیچھے محفوظ تھی۔ مگر مجاہدوں کے لئے کوئی جائے پناہ نہ تھی جہاں وہ اپنے آپ کو گولی سے بچائیں۔ انگریزی فوج تحصیل شاملی میں قلعہ بند ہوگئی اور ادھر سے مجاہدوں پر بندوقوں کی باڑھ مارنا شروع کیا جس سے سیکڑوں مجاہدین ہلاک ہوگئے۔ انگریزی فوج اپنے قلعہ میں محفوظ تھی اور مجاہدین ان کے سامنے کھلے میدان میں تھے۔ انگریزوں کا حملہ پوری طرح کارگر اور کامیاب تھا جب کہ مجاہدین کے حملے غیر مؤثر ہو کر رہ جاتے تھے۔ اس ایک طرفہ مار کی وجہ سے مجاہدین کا بے پناہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ مجاہدین کا ایک دستہ تحصیل شاملی پر حملہ کرنے کے لئے تھانہ بھون سے روانہ کیا گیا تھا۔ اس دستہ کے امیر البیش مولانا حافظ محمد ضامن صاحب تھے۔ جب یہ لوگ گڑھی کے قریب پہنچے تو انگریزی فوج کے ایک سپاہی نے فصیل سے نشانہ لے کر ان پر گولی چلائی اور بقول مولانا طیب "گولی ناف پر پڑی" جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگئے۔ اس خبر یعنی حافظ ضامن صاحب کی شہادت کی خبر نے مجاہدوں کی کمر توڑ دی اور وہ امید جو مجاہدوں کی مشعل راہ تھی ٹوٹ گئی جس سے قلوب میں سرد مہری کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ ادھر
‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues