Al-Risala · July 1988 · page 41

If you have a good excuse, don't use it.

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۴۱

حاصل کرنے کا کوئی اور ممکن طریقہ نہیں۔

یہ تقریر مزید اضافہ کے ساتھ مرتب کر لی گئی ہے۔ ان شاء اللہ اس کو الرسالہ میں شائع کر دیا جائے گا۔ زیر عنوان ”بھارت کی تعمیر“ سہارن پور کے خطاب اور گفتگوؤں میں میں نے لوگوں کے سامنے یہی نقطۂ نظر پیش کیا۔ اجتماع میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سبھی موجود تھے۔ میری معلومات کے مطابق، ہر ایک نے اس نقطۂ نظر کو پسند کیا۔ تقریر کے بعد ڈاکٹر تشہیر احمد صاحب میرے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ کئی ہندوؤں نے مجھ کو یہ کہلا کر بھیجا ہے کہ میں آپ کو مبارک باد دوں اور یہ پیغام پہنچاؤں کہ آپ کی بات انھیں خوب سمجھ میں آئی۔ وہ اس سے پوری طرح اتفاق کرتے ہیں کہ ایکتا پیدا کرنے کے لئے ذہن کو بدلنے کی ضرورت ہے نہ کہ کلچر ل پہچانونکو مٹانے کی۔ مجھ سے براہ راست بھی کئی غیر مسلم صاحبان نے اسی قسم کے تاثرات کا اظہار کیا۔ بعض فرقہ پرست ہندو لیڈر یہ کہتے ہیں کہ قومی ایکتا پیدا کرنے کا راز بھارتیہ کرن (انڈینائزیشن) ہے۔ یعنی تمام لوگوں کا زبان اور مذہبی شعار ایک ہو جائے، آپس میں شادی بیاہ ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ اس پر مسلم قائدین سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہیں اور ”اسلام خطرہ میں “ کی گھنٹی بجا کر زور و شور کے ساتھ تحفظ شریعت کی مہم چلانے لگتے ہیں۔ یہ طریقہ غیر مفید بھی ہے اور اصل مسئلہ کو شدید تر کرنے والا بھی۔ میرے نزدیک صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم یہ کہیں کہ قومی ایکتا بجائے خود ایک ضروری چیز ہے۔ مگر اس کو حاصل کرنے کا طریقہ کلچرل شناختوں کو مٹانا نہیں بلکہ عدم رواداری کے ذہن کو مٹانا ہے۔ مسلم قائدین کے مذکورہ طریقہ میں آدمی صرف منفی ردعمل پیش کرنے والے کے روپ میں سامنے آتا ہے اور دوسری صورت میں وہ رہنمائی دینے والا بن جاتا ہے۔ پہلی صورت میں آدمی صرف دفاعی پوزیشن میں رہتا ہے، مگر دوسرا طریقہ اختیار کرنے کے بعد وہ اقدامی پوزیشن میں آ جاتا ہے۔ اور دفاعی پوزیشن کے مقابلہ میں اقدامی پوزیشن بلاشبہ زیادہ طاقتور ہے۔

موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم لیڈروں نے تقریباً ہر معاملہ میں ایسا ہی کیا ہے۔ انھوں نے خدا کے دین کو عملاً تحفظ کا دین بنا دیا جب کہ باعتبارِ حقیقت وہ اقدام کا دین تھا۔

واپسی کا سفر شاملی کے راستہ سے ہوا۔ شاملی ایک تاریخی قصبہ ہے جو سہارن پور اور دہلی کے تقریباً وسط میں واقع ہے۔ ۱۸۵۷ء کے ہنگامہ میں علماء کی ایک جماعت نے شاملی میں انگریزی فوج پر حملہ کیا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page