Al-Risala · July 1988 · page 44

If you have a good excuse, don't use it.

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۴۴

ایک حدیث

عن ابی ھریرۃ ، قال رسول الله صلى الله علیه حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول الله صلى الله علیه وسلم وسلم امرت بقرية تاكل القرى، يقولون نے فرمایا۔ مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے، وہ بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں يثرب وهي المدينة ۔

اور وہ مدینہ ہے۔

اس حدیث کو سمجھنے کے لیے ایک اصولی بات کو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو اگرچہ ایک متعین صورت میں بیان کی جاتی رہیں۔ مگر اصلا وہ باعتبار حقیقت مطلوب ہوتی ہیں نہ کہ باعتبار صورت۔ اس کی ایک مثال بنو قریظہ کے واقعہ میں ملتی ہے۔ غزوہ احزاب کے بعد جب آپ نے یہودی قبیلہ بنو قریظہ کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے اس کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص عصر کی نماز بنو قریظہ تک پہنچنے سے پہلے ہرگز نہ پڑھے۔ (لا يُصَلِّيَنَّ احد العصر الا في بنى قريظة) لوگ مدینہ سے نکل کر روانہ ہوئے۔ مگر جب دیر ہونے لگی تو کچھ لوگوں نے راستہ ہی میں عصر کی نماز پڑھ لی، اور کچھ لوگوں نے حکم کی لفظی تعمیل کرتے ہوئے بنو قریظہ کی بستی میں پہنچ کر نماز ادا کی۔ جن لوگوں نے راستہ میں نماز پڑھ لی۔ انھوں نے بظاہر حکم رسول کے خلاف کیا۔ مگر رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے ان سے باز پرس نہیں کی، بلکہ دونوں کے عمل کی تصویب فرمائی۔ اس کی توجیہہ کرتے ہوئے محقق علماء نے لکھا ہے کہ جن لوگوں نے وقت آنے پر راستہ میں نماز پڑھ لی وہ غلطی پر نہ تھے۔ کیوں کہ انھوں نے سمجھا کہ آپ کی اصل مراد بنو قریظہ کی طرف جانے میں جلدی کرنا ہے نہ کہ نماز میں دیر کرنا (لانهم فهموا ان المراد انما هو تعجيل السير الى بني قريظة لا تاخير الصلوة ، السيرة النبوية لابن كثير ، المجلد الثالث، صفحه (۲۲)

اسلامی طریقہ یہ ہے کہ مقصد کے حصول کی ایک تدبیر اگر کارگر نہ ہو رہی ہو تو اس کو بدل کر دوسری تدبیر کے ذریعہ مقصد تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ اس اصول کے تحت کبھی مقام عمل کو بدلا جاتا ہے، جیسے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت۔ اور کبھی میدانِ عمل کو بدلا جاتا ہے، جیسے جامعہ کے معاہدے کے درو جنگ کے میدان سے ہٹ کر دعوت کے میدان میں سرگرم ہونا

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page