Al-Risala · August 1988 · page 5

دعوتی عمل

الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۵

دعوتی عمل

کسی اجتماعی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے منظم عمل لازمی طور پر ضروری ہے۔ جب بھی ایک شخص کوئی اجتماعی نشانہ تجویز کرتا ہے تو اپنے مزاج کے مطابق ، اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچنے کے لیے وہ ایک عمل بھی ضرور مقرر کرتا ہے ۔ اس عمل کی مختلف صورتیں ہیں ۔

عمل کی ایک صورت وہ ہے جس کو متشد دانہ عمل (Violent activism) کہا جاتا ہے۔ ماضی اور حال کی تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔ اس کی ایک تازہ اور قریبی مثال آزاد سکھ ریاست (خالصتان) کے حامیوں کی ہے ۔ ۱۹۸۷ء - ۱۹۸۸ء میں انھوں نے پنجاب میں اسی کے مطابق عمل کیا ، اگرچہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔

عمل کی دوسری صورت وہ ہے جس کو غیر متشد دانہ عمل (Non-violent activism) کہا جاتا ہے ۔ اس میں ہتھیار استعمال کیے بغیر عوامی مظاہرہ اور عوامی ایجی ٹیشن کے ذریعہ فریق ثانی پر دباؤ ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ فریق اول کے مطالبات کو مان لے۔ مہاتما گاندھی نے ۱۹۱۷ء سے پہلے انگریزوں کے خلاف اسی طریقہ کو استعمال کیا ، اور کامیابی حاصل کی ۔

عمل کی تیسری صورت وہ ہے جس کو سیاسی عمل (Political activism) کہا جاسکتا ہے ۔ اس کی ایک واضح مثال الکشی سیاست ہے۔ الیکشن کے موقع پر مخالف پارٹیاں اسی طریقہ کو استعمال کر کے حکمراں پارٹی کو گراتی ہیں ۔ اور حکومت کے ایوان پر قبضہ حاصل کرتی ہیں ۔ عمل کے ان طریقوں میں سے کوئی بھی طریقہ اسلام کے مزاج کے مطابق نہیں۔ اسلام کا طریق عمل جو قرآن وسنت سے معلوم ہوتا ہے وہ دعوت ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو دعوتی عمل (Dawah activism) کہا جاسکتا ہے۔ اس طریقہ میں سارا انحصارسنجیدہ ذرائع پر کیا جاتا ہے ۔ منوانے کے بجائے متاثر کرنا۔ ہرانے کے بجائے دل جیتنا۔ حریف اور رقیب بننے کے بجائے ہمدرد اور ناصح بن کر سامنے آنا۔ فریق ثانی سے نفرت کرنے کے بجائے اس سے محبت کرنا ، یہاں تک کہ اس کے حق میں دعائیں نکلنے لگیں ۔ یہ دعوتی عمل ہی صحیح اسلامی عمل ہے۔ یہی واحد طریقہ ہے جس کو اختیار کر کے مسلمان کامیاب ہو سکتے ہیں، موجودہ دنیا میں بھی اور آئندہ آنے والی ابدی جنتوں کی دنیا میں بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues

Printed page