جوابی غلطی نہیں
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۴
جوابی غلطی نہیں
جمعہ کی نماز سے پہلے جو خطبہ دیا جاتا ہے ، اس کا مقصد تذکیرونصیحت ہے۔ اسی لیے حکم ہے کہ خطبہ کے وقت خاموش رہو اور اس کو غور سے سنو۔ اس سلسلہ میں شریعت میں جو احکام دیئے گئے ہیں ، ان میں سے ایک حکم وہ ہے جو ابو ہریرہ ؓ کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے جو بخاری ومسلم میں نقل ہوئی ہے :
قال رسول الله صلى الله علیه وسلم - اذا قلت رسول الله صلى الله علیه وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اپنے ساتھی لصاحبك يوم الجمعة انصت والامام يخطب سے جمعہ کے دن کہو کہ چپ رہو، جب کہ امام خطبہ فتد لغوت (متفق علیه) دے رہا ہو تو تم نے لغو کام کیا۔
بظاہر اصل غلطی کرنے والا وہ ہے جو خطبہ کے وقت ابتداءً بولے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لغو فعل کا مرتکب اس کو قرار دیا جس نے دوسری بار بول کر اس کو چپ کرانے کی کوشش کی۔ کیوں کہ اصل مطلوب تو خاموشی تھی، اور جب دوسرا شخص چپ کرانے کے لیے بول پڑا تو اس نے ایک غلطی کو دو غلطی کر دیا۔ ایسی حالت میں اس کو اشارہ سے چپ کرانا چاہیے نہ کہ بول کر۔ اس حدیث سے اجتماعی زندگی کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں وہ شخص زیادہ بڑا غلط کار ہے جو ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی کرے۔ اگر ایک شخص کوئی قابلِ اعتراض کارروائی کرتا ہے تو دوسروں کو چاہیے کہ اس سے اعراض کریں یا حکمت کے ساتھ اس کو دفع کرنے کی کوشش کریں ۔ دوسرے لوگ اگر ایسا کریں تو غلطی پہلے ہی مرحلہ میں دب کر ختم ہو جائے گی لیکن اگر دوسرے لوگ بے صبری میں آکر اس کے خلاف جوابی کارروائی کرنے لگیں تو غلطی کا دائرہ بڑھے گا۔ وہ انفرادی نقصان سے آگے بڑھ کر اجتماعی نقصان تک پہنچ جائے گا۔
جو شخص " جوابی غلطی " کرے وہ زیادہ بڑا غلط کار ہے۔ کیوں کہ جہاں اس کو حکمت اور اعراض سے کام لینا چاہیے تھا ، وہاں اس نے بدتدبیری اور بے صبری کا مظاہرہ کیا ، اور اس طرح غلطی کو کئی گنا زیادہ بڑھا دیا۔ پہلا طریقہ غلطی کو دیکھ کر اس پر مشتعل ہونے کی مثال ہے ، دوسرا طریقہ غلطی کو دیکھ کر اس کی اصلاح کرنے کی مثال ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues