Al-Risala · August 1988 · page 8

ذمہ دار کون

الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۸

ذمہ دار کون

ہندوستان میں ہولی کے دن ایک ہندو کچھ مسلمانوں کے اوپر رنگ ڈال دیتا ہے۔ مسلمان مشتعل ہو کر لڑنے لگتے ہیں۔ اور پھر ساری بستی میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑتا ہے۔ پاکستان کے ایک ہوٹل میں کسی مسئلہ پر تکرار ہوتی ہے۔ ایک پٹھان کچھ مہاجرین کے اوپر گرم چائے کی پیالی پھینک دیتا ہے۔ یہ مہاجرین مشتعل ہو کر لڑ پڑتے ہیں۔ اور اس کے بعد پورے شہر میں مہاجر مسلمان اور پٹھان مسلمان کے درمیان جنگ شروع ہو جاتی ہے۔

ان واقعات میں بظاہر فساد کا آغاز کرنے والا ہندوستان میں ہندو اور پاکستان میں پٹھان ہے۔ مگر قرآن کی رو سے دیکھئے تو دونوں جگہ فساد کی اصل ذمہ داری فریق ثانی پر عائد ہوتی ہے۔ ہندوستان میں مسلمان کے اوپر اور پاکستان میں مہاجر کے اوپر۔ کیوں کہ دونوں جگہ فریق ثانی نے یہ کیا کہ فریق اول کے جس واقعہ پر قرآن میں عفو و درگزر کا حکم دیا تھا ۔ اس کو انھوں نے انتقام اور جوابی کارروائی کا عنوان بنایا ۔

موجودہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں ہر شخص کو آزادی حاصل ہے۔ اس لیے مذکورہ نوعیت کے چھوٹے چھوٹے واقعات ہر جگہ لازماً پیش آئیں گے، خواہ وہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک ۔ یہ اس تخلیقی منصوبہ کا فطری نتیجہ ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کو بنایا ہے۔ اسی لیے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو اعراض کے خانہ میں ڈال دو۔ اس کو اشتعال اور انتقام کا مسئلہ نہ بناؤ۔ اب جو شخص ایسا کرے وہ بلا شبہ مفسد ہے۔ کیوں کہ وہ خدا کے نظام تخلیق پر راضی نہیں ہوا۔

ہندوستان اور پاکستان میں جو لوگ عفو و درگزر کے اصول کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے، وہی لوگ "پیٹرو ڈالر" کے ملکوں میں جا کر مبالغہ کی حد تک عفو و درگزر کے اصول کی پابندی کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی نظر میں قرآن کے حکم کی اتنی اہمیت نہیں جتنی اہمیت پیٹرو ڈالر کے حکم کی ہے۔ اس سے زیادہ عجیب بات ہے کہ اس کے باوجود یہ لوگ اپنے آپ کو قرآن کا مومن کامل سمجھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues

Printed page