Al-Risala · August 1988 · page 4

یہ صحیح نہیں

الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۴

یہ صحیح نہیں

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۵ء) نے اپنے مقالہ کروسیڈ (Crusades) کے تحت لکھا ہے کہ تیرہویں صدی عیسوی میں مسیحی مبلغین مشرق کے مسلم ممالک میں داخل ہوئے ۔ تا ہم وہ مسلمانوں کو عیسائی بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اسلامی قانون چوں کہ نہایت سختی کے ساتھ غیر مذاہب کی تبلیغ کو ممنوع قرار دیتا ہے اور اسلام سے پھر جانے والے کے لیے اس کے یہاں موت کی سزا ہے، اس لیے اسلام کو چھوڑ کر مسیحیت اختیار کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی : Since Islamic law rigidly prohibited propaganda and punished apostasy with death, conversion from Islam were few (5/310). یہ صحیح ہے کہ اسلامی دور میں غیر مذاہب کی تبلیغ موثر انداز میں جاری نہ رہ سکی۔ مگر اس کی وجہ قانونی ممانعت نہ تھی۔ اس کی وجہ تمام تر وہی تھی جو موجودہ زمانہ میں ہم نسلی بادشاہت کے معاملہ میں دیکھ رہے ہیں۔ موجودہ آزاد ممالک (مثلاً ہندوستان یا فرانس میں) نسلی بادشاہت کے نظریہ کی تبلیغ پر کوئی قانونی پابندی نہیں۔ اس کے باوجود ان ملکوں میں نسلی بادشاہت کے نظریہ کی تبلیغ نہیں ہورہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت کے فکری انقلاب نے نسلی بادشاہت کے نظریہ کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے ۔ نسلی بادشاہت علمی طور پر اب اس قابل نہیں کہ کوئی اس کا مبلغ بن سکے۔ اسی طرح مسلمانوں کے عیسائی نہ ہونے کا کوئی تعلق اسلام کے قانون ارتداد سے نہیں ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ برطانیہ نے اپنے دور اقتدار میں اس قسم کے اندیشہ کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ مگر سابقہ صورت حال میں کوئی فرق نہیں آیا۔ آج بھی تقریباً تمام دنیا میں مسلمانوں کے لیے عملاً ارتداد کا راستہ کھلا ہوا ہے، مگر مسلمانوں کے مقابلہ میں مسیحی مبلغین کو کہیں بھی کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہیں ۔

اصل یہ ہے کہ اسلام کی صداقت وہ چیز ہے جو مسلمانوں کے اوپر دوسرے مذاہب کی تبلیغ کو غیر مؤثر بنا رہی ہے۔ اس کا تعلق اسلام کی نظریاتی طاقت سے ہے نہ کہ تبلیغ کی قانونی ممانعت سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues

Printed page