Al-Risala · August 1988 · page 11

کمی یہاں ہے

الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۱۱

کمی یہاں ہے

نیتا جی سبھاش چندر بوس نے ۱۹۴۳ء میں آزاد ہند فوج (Indian National Army) بنائی تھی۔ اس کا مقصد انگریزوں سے لڑ کر ہندوستان کو آزاد کرانا تھا۔ یہ فوج رنگون میں بنائی گئی۔ مگر قبل اس کہ وہ ہندوستان میں داخل ہو انگریزی فوج کے برمی دستہ نے اسے ختم کر دیا۔ آزاد ہند فوج کے تین خاص کمانڈر تھے ۔ ڈھلوں، سہگل اور شاہ نواز۔ ان لوگوں پر لال قلعہ کی ایک عدالت میں غداری کا مقدمہ چلایا گیا جس کی وکالت مدعی علیہ کی طرف سے جواہر لال نہرو نے کی تھی۔ اسی زمانہ میں ایک شاعر کا یہ شعر بہت مشہور ہوا تھا :

لال قلعہ سے آئی آواز ڈھلوں ، سہگل ، شاہ نواز

کرنل گور بخش سنگھ ڈھلوں (عمر ۹۵ سال) اب شیوپوری (مدھیہ پردیش) میں رہتے ہیں۔ اور کبھی کبھی دہلی آتے ہیں۔ پرومیلا کلہن نے ان سے ایک انٹرویو لیا جو ہندوستان ٹائمس (16 مئی ۱۹۸۸ء) میں چھپا ہے۔ اس انٹرویو میں انھوں نے جو باتیں بتائیں ان میں سے ایک بات مطبوعہ انٹرویو کے مطابق یہ تھی کہ ہندوستانیوں اور ایشیائیوں نے فیاضانہ طور پر نیتاجی سبھاش چندر بوس کی مالی مدد کی۔ رنگون کے ایک مسلمان تاجر نے تنہا ان کو ایک کروڑ روپیہ دیا :

A cosmetic manufacturer, a Muslim in Rangoon, gave a crore of rupees (p.10). ہم ۱۹۴۳ء کا ایک کروڑ روپیہ آج کے لحاظ سے ۵۰ کروڑ روپیہ سے بھی زیادہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے سیاسی اور قومی کاموں میں بہت بڑا بڑا تعاون دیا ہے ۔ اور بے شمار سرمایہ خرچ کیا ہے ۔ مگر دورِ جدید کی پوری تاریخ میں کوئی ایک مثال نہیں جب کہ مسلمانوں نے دعوت الی اللہ کے کام میں کوئی بڑا تعاون کیا ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ نفرتِ اقوام کے لیے اٹھے مگر وہ محبتِ اقوام کے لیے نہ اٹھ سکے۔ یہی واحد سب سے بڑا سبب ہے جس نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے سارے معاملات کو برباد کر کے رکھا ہے۔ جب تک وہ اپنے اس مزاج کو نہ بدلیں، کسی بھی دوسری تدبیر سے ان کے حالات بدلنے والے نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues

Printed page