قرآن وسنت کی رہنمائی
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۱۲
قرآن وسنت کی رہنمائی
اسلام کے نزدیک تمام مسجدیں یکساں ہیں، خواہ کوئی چھوٹی مسجد ہو یا کوئی بڑی مسجد، خواہ وہ کسی معمولی آدمی کی بنوائی ہوئی ہو یا کسی بادشاہ کی بنوائی ہوئی۔ اس میں صرف تین مسجدوں کا استثناء ہے۔ بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف تین مسجدیں ہیں جن کے لیے سفر کرنا درست ہے۔ مکہ کی مسجد حرام، مدینہ کی مسجد نبوی، اور فلسطین کی مسجد اقصیٰ (لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى۔ وفي رواية : انما يُسَافَرُ الى ثلاثة مَسَاجِدَ - مسجد الكعبة ومسجدى ومسجد ايلياء)
اس حدیث کی تشریح محدثین نے یہ کی ہے کہ اللہ تعالی کی عبادت اور اس کے تقرب کی نیت سے کسی مقام کا قصد نہیں کیا جائے گا، سوا ان تین مقامات کے ، ان کی عظمت اور شرف کی وجہ سے ( والمراد لا يُقصد موضع من المواضع بِنيّة العبادة والتقرب إلى الله تعالى الا الى هذه الاماكن الثلاثة تعظيماً لشأنها وتشريفاً)
معلوم ہوا کہ مذکورہ تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کے لیے اسلام میں شدّ رحال کی اجازت نہیں ہے۔ یہ امتیازی حیثیت صرف تین مسجدوں کو حاصل ہے کہ خاص اس میں عبادت کرنے کے مقصد سے آدمی وہاں کا سفر اختیار کر سکتا ہے۔ دوسری تمام مسجدوں میں عبادت کا ثواب یکساں ہے، جیسا ایک مسجد میں ویسا ہی دوسری مسجد میں۔ البتہ مذکورہ تین مسجدوں میں عبادت کا ثواب استثنائی طور پر زیادہ ہے۔ ان تین مسجدوں کے سوا کسی اور مسجد کی نہ کوئی امتیازی حیثیت ہے اور نہ ان کے علاوہ کسی اور مسجد کے لیے خصوصی طور پر عبادتی سفر کرنا جائز ہے۔
مذکورہ شرعی حکم " عبادتی سفر " کے لیے ہے۔ اب اگر کچھ مسلمان ایک عام مسجد کی طرف کفن بر دوش ہو کر سفر کریں ۔ وہ کہیں کہ ہم جو مارچ کر رہے ہیں وہ عبادتی مارچ نہیں ہے۔ ہم تو مسجد کے غاصبوں سے مسجد کو واگزار کرنے کے لیے ان کے اوپر پر امن جمہوری چڑھائی کر رہے ہیں، تو یہ اور بھی زیادہ غلط ہو گا ۔ کیوں کہ ایک مسجد کے لیے عبادتی شدّ رحال اگر بدعت ہو، تو غیر مسلح
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues