حق کی طاقت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۱۶
حق کی طاقت
ابرہہ (Abrames) قدیم یمن (جنوبی عرب) کا حبشی عیسائی حکمران تھا۔ اس نے یمن کے دارالسلطنت صنعاء میں ایک بہت بڑا مسیحی کلیسا (Ekklesia) بنایا۔ چونکہ جزیرہ عرب کا سب سے زیادہ مقدس عبادت خانہ کعبہ کو سمجھا جاتا تھا اور زیادہ تر لوگ اسی کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے، ابرہہ نے چاہا کہ وہ کعبہ کو ڈھادے تاکہ تمام لوگ اس کے بنائے ہوئے عبادت خانہ میں آئیں، اور اس طرح عرب کا مذہبی مرکز مکہ سے صنعاء کی طرف منتقل ہو جائے۔
اس منصوبہ کے مطابق، ابرہہ ۵۷۰ء میں یمن سے مکہ کے لیے روانہ ہوا۔ اس کا لشکر ۶۰ ہزار مسلح آدمیوں پر مشتمل تھا۔ اس کے ساتھ ایک درجن ہاتھی تھے جو آگے آگے چل رہے تھے۔ اس واقعہ کی تفصیلات بہت لمبی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ مکہ کے سردار عبد المطلب کو جب معلوم ہوا کہ اس قسم کا بے پناہ لشکر کعبہ کو ڈھانے کے لیے مکہ کی طرف بڑھ رہا ہے تو انھوں نے محسوس کیا کہ وہ خود اس سے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے۔ چنانچہ انھوں نے بیت اللہ میں داخل ہو کر اللہ سے دعائیں کیں۔ اس سلسلہ میں ان کے بہت سے اشعار کتابوں میں آئے ہیں، ان کا ایک شعر یہ تھا :
يارب لا أرجو لهم سواكا يارب فامنع منهم حماكا
(اے میرے رب، ان کے مقابلہ میں تیرے سوا میں کسی سے امید نہیں رکھتا، اے میرے رب، تو ان سے اپنے حرم کی حفاظت کر)۔ اس طرح عبد المطلب نے کعبہ کو اللہ کے حوالے کیا اور قبیلہ کے دوسرے لوگوں کے ساتھ بستی سے نکل کر پہاڑوں میں چلے گئے اور وہاں چھپ کر بیٹھ گئے۔
ابرہہ اپنے لشکر کے ساتھ بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ جب وہ حدود حرم پر پہنچا تو اس کے ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ اس کو مار مار کر زخمی کر دیا گیا مگر وہ آگے نہ بڑھا۔ اسی دوران بے شمار چڑیوں کے جھنڈ فضا میں ظاہر ہوئے۔ ان کے چونچ اور ان کے پنجوں میں کنکریاں تھیں۔ انھوں نے یہ کنکریاں ابرہہ کے لشکر پر گرائیں تو وہ گولیوں کی بارش کی مانند ان پر برسنے لگیں۔ ابرہہ سمیت پورا لشکر بھس کی طرح چورا چورا ہو کر رہ گیا۔ یہ واقعہ مکہ کے قریب وادی محسر میں پیش آیا۔ اس واقعہ کے بعد عربوں نے قدیم رواج کے مطابق بہت سے اشعار لکھے اور ان میں اپنے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues