يارب لا أرجو لهم سواكا يارب فامنع منهم حماكا
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۱۷
جذبات اور مشاہدات کا اظہار کیا۔ ابو قیس بن الاسلت کا ایک شعر یہ ہے :
فَلَمَّا أَتَاكُمْ نَصْرُ ذِي الْعَرْشِ رَدُّهُمْ جُنُودُ الْمَلِيكِ بَيْنَ ساف وَحَاصِبِ پھر جب تمہارے پاس عرش والے کی مدد آگئی تو اس بادشاہ کے لشکر (پرندوں) نے ان کو مٹی اور اور پتھر سے مار کر پسپا کر دیا (سیرۃ ابن ہشام ، الجزء الاول ، صفحہ ۶۲)
ابرہہ کا مذکورہ واقعہ ۵۰۔ ۵۶۵ ء میں پیش آیا تھا۔ اس کے ٹھیک ۵۸ سال بعد ۶۲۲ ء میں اسی مکہ کی سرحد پر ایک اور واقعہ اس سے مختلف صورت میں پیش آیا۔ یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ واقعہ ہے جو اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔
اس وقت رسول اللہ علیہ وسلم اپنے دارِ ہجرت (مدینہ) میں تھے۔ ایک خواب کے مطابق آپ اپنے تقریباً ڈیڑھ ہزار اصحاب کے ساتھ عمرہ کے ارادہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے قریش نے آگے بڑھ کر آپ کو روکا۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ آپ عمرہ کیے بغیر مدینہ واپس جائیں۔
قریش کا آپ کو عمرہ سے روکنا۔ یقینی طور پر ظلم اور سرکشی کا واقعہ تھا۔ بظاہر دیکھیے تو یہاں قریش مکہ بدلی ہوئی صورت میں وہی کردار ادا کر رہے تھے جو ۵۸ سال پہلے ابرہہ نے ادا کیا تھا۔ اب بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ جس طرح ابرہہ کے اوپر خدا نے آسمانی سزا بھیجی اسی طرح دوبارہ قریش کے اوپر آسمانی سزا آتی اور انھیں تباہ کر دیتی تاکہ وہ رسول اور اصحاب رسول کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔
مگر ایسا نہیں ہوا۔ پھر اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس فرق کا کم از کم ایک سبب یہ ہے کہ ابرہہ کے حملے کے وقت فریق ثانی کے پاس وہ نظریاتی ہتھیار موجود نہ تھا جو پیغمبر اسلامؐ کے ساتھ حدیبیہ کے واقعہ کے وقت موجود تھا۔
ابرہہ کے حملے کے وقت ابھی قرآن کا نزول نہیں ہوا تھا۔ مگر اس کے ۵۸ سال بعد جب حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا، اس وقت پیغمبر آخر الزماں مبعوث ہو چکے تھے۔ اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنا سچا دین قرآن کی صورت میں بھیج دیا تھا۔
اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ دین کی اور اہلِ دین کی حفاظت فرمائے گا۔ تاہم ابرہہ کے زمانہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues