1. Fred Hoyle, 2. Carl Sagan
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۲۱
عبرت ناک
ہندوستان کی آزادی کے ذیل میں ہندوستانی علماءءء کی تقریریں سنیے یا ان کی تحریریں پڑھیے تو اس میں ہمیشہ علما کی زبردست قربانیوں کا تذکرہ ہو گا ۔ زور پر جوش طور پر یہ کہا جائے گا کہ ہندوستان کو آزادی ہم نے دلائی ۔ علما اور مسلم عوام لاکھوں کی تعداد میں قربان نہ ہو گئے ہوتے تو انگریز نہ ہندوستان کے مطالبہ آزادی کو تسلیم نہیں کر سکتا تھا۔
یہ بات اگرچہ کلی طور پر نہیں تاہم جزئی طور پر یقیناً صحیح ہے ۔ مگر حیرت ناک بات یہ ہے کہ علما کے دعوؤں کے باہر اس کا اعتراف کہیں موجود نہیں۔ ہندوستان میں قومی سطح پر آزادی کی جو تاریخیں لکھی گئی ہیں ان میں علما و ہند کا یہ " شاندار باب " بالکل حذف ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہندوستان سے باہر عالمی سطح پر ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے۔ اس میں بھی اس کا تذکرہ موجود نہیں ۔ اس کی ایک مثال انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) کا وہ مضمون ہے جو سبھاش چندر بوس (۱۹۴۵-۱۸۹۷) کے عنوان کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جب جاپانیوں نے سنگاپور پر قبضہ کر لیا تو سبھاش چندر بوس جاپان پہنچے۔ وہاں انھوں نے اکتوبر ۱۹۴۳ میں " آزاد ہند حکومت " کی بنیاد ڈالی ۔ اور اس کے تحت ایک آزاد ہند فوج (Indian National Army) بنائی ۔ اس فوج کے افراد زیادہ تر وہ ہندوستانی فوجی تھے جو انگریزی فوج میں شامل تھے اور جنھوں نے جاپان کی فتح کے بعد ہتھیار ڈال دیے تھے۔ سبھاش چندر بوس اس فوج کو لے کر رنگون پہنچے تاکہ وہاں سے ہندوستان کی طرف مارچ کر سکیں ۔ یہاں ان کا مقابلہ انگریزی فوج سے ہوا جس میں انھیں شکست ہوئی ۔ اس کے بعد ان کا دل ٹوٹ گیا ۔ ایک حادثہ کا شکار ہو کر وہ کچھ دن جاپان کے اسپتال میں رہے اور وہیں ۱۹ اگست ۱۹۴۵ کو انتقال کر گئے۔
سبھاش چندر بوس کے تذکرے کے تحت انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا میں لکھا گیا ہے کہ سبھاش چندر بوس نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ برطانی فوج کے ہندوستانی سپاہیوں میں بھی حب وطن کا جوش پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ اپنے اس عمل سے انھوں نے وہ اثرات ڈالے جو بالاخر ہندوستان الہ اگست ۱۹۸۸ ۲۱
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues