1. Fred Hoyle, 2. Carl Sagan
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۲۲
کی آزادی تک پہنچے :
اس اقتباس کو پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ جس واقعہ کو ہندوستانی علماء اپنے خانہ میں درج کیے ہوئے ہیں وہ عالمی ریکارڈ میں " سبھاش چندر بوس" کے خانہ میں لکھا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سوال کا جواب مجھے اس وقت ملا جب کہ میں نے انسائیکلو پیڈیا میں سبھاش چندر بوس کے مذکورہ مضمون کے نیچے اس کی کتابیات (Bibliography) دیکھی۔ اس کتابیات میں انگریزی کتابوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو سبھاش چندر بوس کی زندگی اور ان کی جدوجہد کے بارے میں لکھی گئی ہیں اور جن سے معلومات اخذ کرتے ہوئے یہ مضمون تیار کیا گیا ہے۔ ہمارے علماء دنیا کو اس قسم کی " کتابیات" نہ دے سکے۔ اس لیے دنیا نے نہ ان کو جانا اور نہ ان کا تذکرہ کیا۔ موجودہ زمانہ میں جو مسلم علماء قیادت کے لیے اٹھے ان کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ وہ انگریزی زبان یا اور کسی مغربی زبان سے ناواقف تھے۔ مزید یہ کہ انھوں نے انگریزی تعلیم کا مسلسل اس طرح استخفاف کیا کہ قوم کے دوسرے لوگ بھی بہت کم انگریزی تعلیم کی طرف مائل ہو سکے ۔ اور جو شخص انگریزی تعلیم کی طرف گیا وہ بھی یہ سمجھ کر گیا کہ وہ علماء سے اور ان کے مذہب سے باغی ہو کر انگریزی تعلیم کی طرف جا رہا ہے۔ اس انحراف کے بعد وہ علماء کے کام نہیں آ سکتا تھا اور نہ وہ ان کے کام آیا۔ انسائیکلو پیڈیا یا دوسری مغربی کتابوں کے مذکورہ بیانات کو عام مسلمان اور خود ہمارے علماء " مستشرقین کے تعصب " کے خانہ میں ڈالتے ہیں۔ مگر میں اس کو خود علماء اور مسلمانوں کی اپنی کمی کے خانہ میں ڈالتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی کمی کو دور کر کے ہی اس تاریخی صورت حال کو بدل سکتے ہیں، تعصب اور سازش کا الزام لگانے سے نہ اب تک کوئی فائدہ ہمیں ملا ہے اور نہ آئندہ اس سے کوئی فائدہ ہمیں مل سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues