عمر بن عبد العزیز شوریٰ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۲
عمر بن عبد العزیز شوریٰ
عمر بن عبدالعزیز (۱۰۱ - ۶۱ھ) بنو امیہ کے امراء میں سے تھے۔ ان کی ابتدائی زندگی تعیش کی زندگی تھی۔ ان کی رئیسانہ چال اتنی مشہور ہوئی کہ اس کو عمری چال (المشية العمرية) کہا جانے لگا۔
۹۹ھ میں سلیمان بن عبد الملک اموی کی وفات ہوئی۔ اس کی وصیت کے مطابق حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ مقرر ہوئے۔ وہ اگرچہ بظاہر عیش و عشرت کے ساتھ رہتے تھے۔ مگر ان کے سینہ میں ایک درد مندانہ دل تھا۔ چنانچہ خلافت کے عہدہ پر تقرر کے بعد ان کی زندگی بالکل بدل گئی۔ ذمہ داری کے احساس نے ان سے دنیوی لذت و آرام کا احساس چھین لیا۔ ان کے ایک ساتھی ان کے بارے میں کہتے ہیں :
رأيته في المدينة وهو أحسن الناس ملبساً میں نے ان کو مدینہ میں دیکھا اور وہ سب سے بہتر ومن أطيب الناس ريحاً ومن أخيل الناس لباس میں تھے۔ اور سب سے اچھی خوشبو لگائے في مشيته - ثم رأيته بعد ذالك ہوئے تھے۔ اور سب سے زیادہ امیرانہ چال چلتے يمشى مشيّة الرهبان - تھے۔ پھر میں نے ان کو اس کے بعد دیکھا کہ وہ درویش کی چال چل رہے تھے۔
عمر بن عبدالعزیز علم میں اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ ان کی بابت ایک معاصر عالم نے کہا : ما كان العلماء عند عمر بن عبد العزيز الاستلاميذ (عمر بن عبدالعزیز کے سامنے علماء محض شاگرد معلوم ہوتے تھے)
عمر بن عبدالعزیز سے پہلے بنو امیہ کے خلفاء نہایت شان و شوکت کے ساتھ رہتے تھے، مگر انہوں نے اس قسم کی تمام چیزوں کو چھوڑ دیا۔ خلافت کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد ان کے سامنے شاہانہ سواری لائی گئی جو نہایت شاندار اور مزین تھی، مگر انہوں نے اس کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرا جانور میرے لیے زیادہ ٹھیک ہے (دَابَّتِي اوفق لی) حضرت عمر بن عبدالعزیز کے اصول پر نہایت شدت کے ساتھ قائم تھے۔ خلافت
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues