عمر بن عبد العزیز شوریٰ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۳
کے عہدہ پر ان کا تقرر سابق خلیفہ کی وصیت کے تحت ہوا تھا۔ مگر انہوں نے اس کو کافی نہیں سمجھا۔ اس سلسلہ میں تاریخ کا بیان ہے :
وجمع الناس في المسجد، وكان من قوله لهم: إنّي قد خلعْتُ ما في أعناقكم من بيعَتي، فأخْتاروا لأَنفُسِكُم. فصاحَ الناسُ صيحةً واحدةً : قَد اخْتَرنا لَك يا امير المومنين - عمر بن عبد العزيز نے تقرری کے بعد لوگوں کو دمشق کی جامع مسجد میں جمع کیا۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ میری بیعت کا قلادہ جو تمہاری گردن میں تھا اس کو میں نے اتار دیا۔ پس تم خود اپنے لیے کسی کو پسند کرکے خلیفہ بنالو۔ یہ سن کر تمام لوگ ایک آواز ہو چیخ اٹھے ؛ اے امیر المومنین ہم آپ ہی کو منتخب کرتے ہیں۔
سابق خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کے انتقال کے بعد لوگ مسجد میں جمع کیے گیے۔ رجاء بن حیوہ نے سلیمان بن عبد الملک کا وہ وصیت نامہ پڑھ کر سنایا جس میں عمر بن عبد العزیز کو خلیفہ نامزد کیا گیا تھا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کا حال اس وقت یہ تھا کہ وہ خلافت کے لیے اپنا نام سن کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ رہے تھے۔ اس تحریر کو سن کر وہ اپنی جگہ پر بیٹھے رہ گیے۔ ایک شخص نے ہاتھ پکڑ کر انھیں اٹھایا اور لے جاکر منبر پر بٹھایا۔ اس کے بعد خلافت کی بیعت ہوئی۔ جب آپ بیعت سے فارغ ہو کر گھر واپس آئے تو آپ کی داڑھی آنسوؤں سے تر تھی۔ خلافت کے بعد آپ کی خدمت میں سواری کے لیے شاہی گھوڑے پیش کیے گئے تو آپ نے فرمایا : میرا جانور میرے لیے زیادہ بہتر ہے (دابتی اوفق لی) اسی طرح آپ سے کہا گیا کہ شاہی محل میں قیام کریں۔ آپ نے فرمایا کہ میرا خیمہ میرے لیے کافی ہے ( في فسطاطی كفاية )
سلیمان بن عبد الملک کا ایک بھتیجا عبد العزیز بن ولید بن عبد الملک تھا۔ سلیمان بن عبد الملک کی وفات کے وقت وہ دار الخلافہ سے باہر تھا۔ اس کو عمر بن عبد العزیز کی بیعت کا حال معلوم نہ ہوسکا تھا۔ چنانچہ اس نے سلیمان کی وفات کی خبر سن کر خلافت کا دعویٰ کر دیا اور اپنی فوج لے کر دمشق کی طرف روانہ ہوگیا۔ جب وہ دمشق پہنچا اور اس کو معلوم ہوا کہ عمر بن عبد العزیز کے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues